صلاح الدین میں 12 کرد وں کا اغوا کے بعد قتل،حشد الشعبی پر الزام، گرین زون کے حساس علاقے کو الحشد الشعبی سے پاک کیا جائے، کرد رہنما کی اشتعال انگیزی
ایران نواز حشد الشعبی کو غیر مسلح کیا جائے، امریکا نے مطالبہ دہرادیا، عراقی حکام نے امریکی فوج کے انخلا کا ٹائم لائن طے کرنے کیلئے رابطہ کمیٹی قائم کردی
بغداد (نیوز ڈیسک) عراق کی جانب سے فوجی انخلا کیلئے دباو ¿ بڑھنے پر امریکا نے شیعہ کرد جنگ چھیڑنے کی سازش رچالی، عراقی صوبے صلاح الدین میں 12 کرد افراد کے اغوا کے بعد قتل نے ماحول کو کشیدہ کردیا، امریکا نواز کرد جماعت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے واقعہ میں حشد الشعبی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا، کے ڈی پی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا کہ بغداد میں گرین زون کے حساس ترین علاقے کو الحشد الشعبی سے پاک کیا جائے، متعدد ارکان پارلیمنٹ نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ معذرت پیش کرے، صلاح الدین کے گورنر نے قتل میں حشد الشعبی سے منسلک عصائب الحق کو ملوث قرار دیا، امریکا بھی جلتی پر تیل چھڑکنے کیلئے میدان میں آگیا، امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکا ایران نواز ملیشیا کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل کی مذمت کرتا ہے، یہ اقدام بغداد میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر جلانے کے کچھ دیر بعد کیا گیا، ماہرین عراق کی موجود صورتحال امریکا پر فوجی انخلا کیلئے بڑھتے دباو ¿ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ، ا ±دھر عراقی حکام نے فوجی انخلا کا ٹائم لائن طے کرنے کیلئے رابطہ کمیٹی قائم کردی، کمیٹی امریکی حکام سے رابطہ کاری کے فرائ ض انجام دے گی تاکہ امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلا کا نظام الاوقات طے کیا جاسکے، یہ فیصلہ وزیرخارجہ فواد حسین، قومی سلامتی کے مشیر قاسم العرجی اور دوسرے سیکورٹی حکام کے اجلاس میں کیا گیا۔


































