
فرانس کے صدر میکرون کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں کی حمایت میں بیان دیے جانے اور اس واقعے پر پورے عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر پھیل جانے کے بعد رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرانس کے نوجوانوں کو مخاطب کرکے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:
بسمہ تعالیٰ
فرانس کے نوجوانو!
اپنے صدر سے پوچھیے: وہ نبی خدا کی توہین کی حمایت کیوں کرتے ہیں اور اسے آزادی اظہارِ خیال کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا آزادی اظہار خیال کا مطلب ہے گالیاں اور توہین وہ بھی مقدس ہستیوں کے بارے میں؟ کیا یہ احمقانہ عمل اس ملت کی توہین نہیں جس نے انھیں چنا ہے؟
اگلا سوال یہ ہے کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں شک کرنا کیوں جرم ہے؟ اور اگر اس بارے میں کوئی کچھ لکھ دے تو اسے جیل کیوں جانا پڑتا ہے؟ لیکن پیغمبر(ص) کی شان میں گستاخی کی پوری آزادی ہے؟


































