
ریاض : سعودی عرب اسرائیلی خفیہ سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی نگرانی میں ملوث نکلا، واشنگٹن پوسٹ، گارجین اور فرانس کے لی مونڈے سمیت 17 اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کرنے والے اپنے شہریوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کی، صحافتی اداروں کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ اسرائیلی فرم نے ایک ہزار صحافیوں کے موبائل فون ہیک کیے اور مجموعی طور پر 50 ہزار موبائل نمبرز کا جائزہ لیا، اسرائیلی فرم نے سعودی عرب کیلئے جن 37 موبائل فونز کو ہیک کیا، اُن میں 2018 میں ترکی میں قتل کیےگئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی رشتے دار دو خواتین بھی شامل ہیں، سعودی عرب نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی نگرانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دے دیا، سعودی ذرائع نے کہا ہے کہ جس طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ سچ نہیں ہیں اور سعودی عرب کی پالیسیوں میں اس طرح کے عمل کی اجازت نہیں ہے۔


































