
اٹلی نے یمن تنازع کے باعث سعودیہ اور امارات کو میزائلز اور لڑاکا طیاروں کے بموں کی فراہمی منسوخ کردی، ہمارے نزدیک انسانی حقوق زیادہ ضروری ہیں، وزیرخارجہ
بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب اور عرب امارات سے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کاسودا عارضی طور پر منجمد کر دیا، مقصد سودے کا از سر نو جائزہ لینا ہے،وزارت خارجہ
روم /واشنگٹن (نیوزڈیسک) اٹلی نے یمن تنازع کی وجہ سے سعودی عرب اور امارات کو ہزاروں میزائل کی فروخت روک دی،جبکہ امریکا نے بھی اربو ں ڈالر کے ہتھیاروں کے فروخت کے سودے کو عارضی طور پر منجمد کردیا ہے، اطالوی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور امارات کو ہتھیاروں کی فروخت منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دونوں ممالک کو میزائلز اور لڑاکا طیاروں کے بموں کی فراہمی منسوخ کردی ہے تاکہ ہمارے ملک کی جانب سے دنیا کو امن کا واضح پیغام دیا جاسکے، ہمارے نزدیک انسانی حقوق کا احترام زیادہ ضروری ہے، اٹلی نے پہلے 18 ماہ کے لیے پابندی لگائی تھی تاہم اب اسے مستقل کردیا ہے، اسلحے پر پابندی کی علمبردار تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے تاریخی قرار دیا،ادھر بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ کے آخری دنوں میں سعودی عرب اور عرب امارات سے کئے گئے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے کو عارضی طور پر منجمد کر دیا ہے، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سودے کا از سر نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا ہے، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کے فروخت پر عارضی طور پر روک لگانے سے بائیڈن انتظامیہ کویہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ آیا امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک مضبوط، قابل ہمکار اور باصلاحیت سیکیورٹی پارٹنرز بنانے کے ہمارے اسٹریٹیجک مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ جن ہتھیاروں کی فروخت پر روک لگائی گئی ہے ان میں متحدہ عرب امارات کو 23 ارب ڈالر کے ایف 35 جنگی طیاروں کی سپلائی کا معاہدہ شامل ہے، یہ سودا نومبر میں صدارتی انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ کے دور اقتدار کے بالکل آخری دنوں میں کیا گیا تھا


































