
رحیم یار خان : رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں بیشتر ہندو خاندانوں نے گھر بار چھوڑنا شروع کر دیا ہے، ممبر قومی اسمبلی اور پارلیمنٹری سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال ملحی نے ٹوئٹ کیا کہ بیشتر ہندو گھرانے ہنومن جی کے مندر میں توڑ پھوڑ کے بعد گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں، انہوں نے حکومت سے املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، ڈی پی او رحیم یار خان نے علما کے ساتھ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ مندر پر حملے اور اس میں توڑ پھوڑ کے بعد پولیس نے تین مقدمات درج کیے ہیں، مقامی مدرسے کی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ لائبریری میں ایک بچے نے آکر پیشاب کیا ہے، جس پر بچے کے خلاف 295 اے کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا، اے ایس آئی کے مطابق چونکہ بچہ نابالغ تھا اس لیے مجسٹریٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا، ان کا کہنا تھا کہ چند مٹھی بھر لوگوں نے امن تباہ کرنے کی کوشش کی ہے، ان لوگوں کو اُکسانے والے، ان کو وہاں پر لانے اور بلوانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، وزیراعظم عمران خان نے رحیم یار خان میں مندر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مندر کو دوبارہ بحال کرے گی، عمران خان نے آئی جی پنجاب کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات کردیئے، واقعے کا چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ حملے کیخلاف قومی اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔


































