
جمال خاشقجی کو محمد بن سلمان کی ہدایت پر قتل کیا گیا، قتل کا مقصد عرب دنیا میں جمہوری اصلاحات کیلئے جمال خاشقجی کی امریکا میں کاوشوں کو روکناتھا،مقدمہ
سازش کی ابتدا واشنگٹن کے سعودی سفارتخانہ میں ہوئی ، بن سلمان کی ہدایت پر خاشقجی کو استنبول بھیجنے کا جال بچھایا گیا،منگیتر کی درخواست میں موقف
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ترکی میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز اور خاشقجی کے انسانی حقوق کے گروپ ڈیموکریسی فار عرب ورلڈ ناو ¿ (ڈان) نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کردیا، واشنگٹن ڈی سی میں دائر مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو محمد بن سلمان کی ہدایت کے مطابق قتل کیا گیا، قتل کا مقصد واضح تھا، عرب دنیا میں جمہوری اصلاحات کے لیے جمال خاشقجی کی امریکہ میں کاوشوں کو روکنا، خدیجے چنگیز نے جمال خاشقجی کی موت پر ذاتی چوٹ اور مالی نقصان کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ ڈان کا کہا ہے کہ خاشقجی کے قتل سے ان کے کام میں رکاوٹ آئی ہے، ویڈیو کانفرنس میں خدیجے چنگیز اور ڈان کے وکلا نے کہا کہ مقدمے کا مقصد امریکی عدالت میں ولی عہد شہزادے کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرانا اور ان دستاویزات کا حصول ہے جن سے حقیقت ظاہر ہو، مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے منصوبے کا آغاز واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے میں اس وقت ہوا جب وہ خدیجے سے شادی کے لئے دستاویزات کیلئے گئے تھے، محمد بن سلمان اوردوسرے سعودی حکام کے اشارے پر خاشقجی کو بتایا گیا کہ وہ یہاں دستاویزات وصول نہیں کرسکتے اس کیلئے انہیں استنبول میں سعودی قونصل خانے جانا ہوگا، خدیجے چنگیز نے ایک بیان میں کہا کہ جمال کا خیال تھا کہ امریکہ میں کچھ بھی ممکن ہے اور میں انصاف اور احتساب کے حصول کیلئے امریکا کے نظام عدل پر اعتماد کرتی ہوں ، جمال خاشقجی 2017 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے امریکا چلے گئے تھے، انھیں دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی منگیتر کے ساتھ اپنی دوسری شادی سے پہلے ضروری کاغذی کارروائی کے لیے گئے تھے، تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جب خدیجے چنگیز سفارت خانے کے باہر انتظار کر رہی تھیں تو اندر جمال خاشقجی کا قتل کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے کیے جا رہے تھے، خاشقجی کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔


































