
جماعت اسلامی شعبہ خواتین کے زیراہتمام ”مضبوط خاندان، محفوظ عورت، مستحکم معاشرہ“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد ہوا، سیمینار سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مشتاق خان، جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل و سابق ممبر قومی اسمبلی عائشہ سید، سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس، ڈائریکٹر ویمن اینڈ فیملی کمیشن ڈاکٹر رخسانہ جبیں، انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین ایشین ریجن کی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شگفتہ عمر، جماعت اسلامی اسلام آباد کی ناظمہ نصرت ناہید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل و سابق ممبر قومی اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ خاندان اس کائنات کا پہلا الہامی ادارہ ہے اور انسانی زندگی کا پہلا رشتہ میاں بیوی کا رشتہ ہے پھر یہی جوڑا آگے پورے معاشرے کی بنیاد بنتا ہے، اسلام سے ناواقفیت رکھنے کے باعث مغربی معاشرے کی ستائی ہوئی عورت اپنے قار کی بحالی کی خاطر مسلمان عورت کو بھی حقوق نسواں کی تحریکوں کے پر فریب جال میں الجھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں کے مصنوعی نعرے عورت کے وقار اور خاندان کے وجود کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہیں، جو اللہ کے قوانین سے بغاوت، عورت کی بے جا آزادی، گھر داری کی نفی اور جنسی بے راہ روی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طبقے کو کردار ادا کرنا ہے تاکہ خاندانی نظام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ہمارے بچوں کی تربیت خلوص و محبت کے ماحول میں ہو اور بڑھاپے میںوالدین اپنی اولادوں کے لیے باعث رحمت ہوں۔ ڈاکٹر رخسانہ جبین نے کہا کہ پردہ، چادر اور چاردیواری ہمارے بنیادی حقوق ہیں اور یہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بھی ہیں۔ مروہ الشر بینی ایک رول ماڈل ہے جس نے اپنی جان قربان کر دی مگر حجاب کو قربان نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عزت و ناموس کی حفاظت کی ذمے داری محرم مردوں کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی ہے اور ہمارے لیے رول ماڈل حضرت فاطمتہ الزہرہ(س) اور حضرت خدیجہ الکبری(س) ہیں، نہ کہ مغرب کی عورت۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد کی قوامیت میں ہی ہماری آبرو کی سلامتی ہے اور یہ کہ جب تک ہم قرآن مجید سے رہنمائی نہیں لیں گے مادر پدر آزاد میڈیا گھروں اور خاندانوں کی سلامتی کا دشمن بنا رہے گا۔


































