
گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل آف پاکستان، وزیراعلیٰ جی بی، سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری دفاع سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کی حیثیت دینے کے حوالے سے مختلف ماڈلز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئینی ترمیم پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئین کی کن شقوں میں ترمیم ہوگی اور ترمیم کی نوعیت کیا ہوگی۔ اجلاس میں وزارت قانون کے حکام اور جی بی کونسل کے نمائندوں نے اپنی اپنی رائے دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہوگی کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، تب تک گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں یہ امر زیر غور نہیں آیا کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی و سینیٹ میں کتنی نمائندگی ملے گی۔ سیٹوں کی تعداد کیا ہوگی۔ اس معاملے پر کمیٹی کے اگلے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس پندرہ روز بعد ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ معاملے پر تیزی سے کام کیا جائے گا، کیونکہ پہلے ہی کافی دیر ہوچکی ہے اور کمیٹی کے ٹی آو آر کے تحت ساٹھ دن کے اندر سفارشات مکمل کرنا تھیں، تاہم مقررہ وقت میں کمیٹی کا اجلاس بھی نہ ہوسکا تھا۔ اب فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی جلد از جلد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیگی۔ دوسری جانب اجلاس کے بعد جاری سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے قومی مفادات، عوامی امنگوں اور سیاسی اتفاق رائے کو یقینی بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔


































