تحریر: رضا محمد مراد
2003ءمیں امریکہ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور صدر صدام حسین کا تختہ الٹ کر ایک سابقہ امریکی جرنیل پال بریمر کو عراق کا نیا حکمران مقرر کر دیا تھا۔ امریکی حکام ہر گز یہ تصور بھی نہیں کر رہے تھے کہ عراق میں ان کی جانب سے لائی گئی جمہوریت کا نتیجہ ایک امریکہ مخالف حکومت برسراقتدار آنے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ ایسی حکومت جس کی بنیاد عوام کے ووٹ پر ہو گی اور وہ اپنے قومی مفادات کے حصول اور ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو گی۔ عراق میں امریکہ کی توقعات کے برعکس، جمہوریت کے نتیجے میں ایسی سیاسی جماعتیں برسراقتدار آئیں جو ماضی میں صدام حسین کے خلاف برسرپیکار رہ چکی تھیں۔
یہ سیاسی جماعتیں اور ان کے سربراہان مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار کے باعث ایران کی طرف جھکاو رکھتے تھے۔ دوسری طرف امریکی حکمران ایران کے ساتھ عراق کی قربتیں برداشت نہیں کر پائے لہذا عراقی حکومت کے خلاف مختلف قسم کی سازشیں اور میڈیا پر پراپیگنڈے شروع کر دیے۔ اس پراپیگنڈے میں یہ ظاہر کیا جانے لگا کہ امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے اس ملک کو ایران کی گود میں ڈال دیا ہے۔ عراق کو ایران سے دور کرنے کیلئے امریکہ کی کوششیں صرف عراقی عوام کے اندر نیشنل ازم پر مبنی جذبات ابھارنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اس پراپیگنڈے کی ناکامی کے بعد امریکہ نے عراق میں سنی شیعہ فرقہ وارانہ جنگ شروع کرنے کی سازش شروع کر دی۔ اس مقصد کیلئے امریکہ نے تکفیری دہشت گروہ تشکیل دیے۔
بعض عرب ممالک نے عراق میں امریکہ کے تشکیل کردہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کی بھرپور مالی اور فوجی مدد کا آغاز کر دیا۔ ان ممالک میں خطے میں امریکہ کے اتحادی ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب سے آگے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ گذشتہ امریکی صدر براک اوباما کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز جان کیری نے عراق کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کا آغاز کر دیا۔ جان کیری نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی پر اہلسنت سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں شریک نہ کرنے، داعش کے معرض وجود آنے کا زمینہ فراہم کرنے اور ان کے دہشت گردانہ اقدامات سے چشم پوشی کرنے جیسے الزامات عائد کئے۔ جان کیری کا دعوی تھا کہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کی بنیادی وجہ اہلسنت جماعتوں کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔
عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی پیدائش اور اس کی سرگرمیاں دیگر ممالک تک پھیل جانا عراقی حکومت گرانے کیلئے امریکی سازش تھی۔ بہت واضح تھا کہ امریکہ اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ داعش کے ذریعے عراق میں سیاسی تبدیلی لا کر ایسی حکومت برسراقتدار لانے کے درپے تھے جو ماضی میں صدر صدام حسین کی طرح مکمل طور پر امریکہ کی مطیع اور فرمانبردار ہو۔ ایسے حالات میں امریکہ نے عراقی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے سے بھی دریغ کیا اور کردستان کے مرکز اربیل کے ساتھ ساتھ عراق کے دارالحکومت بغداد پر بھی داعش کا قبضہ حتمی دکھائی دینے لگا۔ ایسی صورتحال میں عراق میں مقیم مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی سیستانی نے داعش کے خلاف جہاد واجب ہونے کا فتوی جاری کر دیا۔
آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے تاریخی فتوے کے نتیجے میں عوامی رضاکار فورس "حشد الشعبی” تشکیل پائی جس کا بنیادی مقصد تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنا تھا۔ دوسری طرف ایران نے حشد الشعبی کو بھرپور فوجی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ داعش کے خلاف جنگ کیلئے اپنے فوجی مشیر بھی عراق بھیجے تاکہ عراق کو دہشت گردوں کے چنگل میں جانے سے بچایا جا سکے۔ امریکہ اس نئی صورتحال سے پریشان ہو گیا اور اس نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف کامیابیوں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی غرض سے ایک نام نہاد "داعش مخالف اتحاد” تشکیل دے ڈالا۔ اب عراق کے حالات امریکہ کیلئے مزید نامطلوب ہو چکے تھے کیونکہ قومی خودمختاری کی خواہاں حکومت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی فورس بھی تشکیل پا چکی تھی جس کا بنیادی ہدف ملک و قوم کا دفاع کرنا تھا۔
ایسے حالات میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق میں نئی سازش کا آغاز کیا۔ ایک طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے عراق کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور بغداد میں اپنے سفارتخانے کھول کر بعض شیعہ رہنماوں کو سعودی عرب بلا کر عراق کو ایران سے دور کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف امریکہ نے اپنے سفارتخانے کے ذریعے مشکوک قسم کے اقدامات کرنا شروع کر دیے جن کا مقصد شیعہ قوتوں کے اندر تفرقہ ڈال کر انہیں تقسیم کرنا تھا۔ یہ امریکی سازش تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کے بعد جاری رہی اور وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت کی سرنگونی کا باعث بنی۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حشد الشعبی کے مراکز کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لہذا امریکہ چونکہ حشد الشعبی کو اپنے ناپاک عزائم کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتا ہے اس لئے اس کے خاتمے پر مصر نظر آتا ہے۔


































