Tue Oct 13, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

کیا امریکہ میں مارشل لاءآنے والا ہے؟

تحریر: علی احمدی
 
امریکہ کا دعوی ہے کہ ہمارے ملک میں دنیا کا جمہوری ترین حکومتی نظام نافذ ہے اور اسی بنیاد پر وہ دیگر ممالک پر غیر جمہوری رویوں اور بند سیاسی ماحول ہونے کے ناطے تنقید کرتا رہتا ہے۔ لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خود امریکہ میں ایسی فضا جنم لے رہی ہے جس میں بعض فوجی رہنما موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں باقی رکھنے کیلئے فوجی طاقت استعمال کرنے کی باتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے یہ ظاہر کرتے کی کوشش کی ہے کہ وہ اقتدار میں باقی رہنے کیلئے طاقت کے استعمال کے مخالف ہیں لیکن بعض حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسی باتیں شروع کروانا خود ڈونلڈ ٹرمپ کا ہی ایک حربہ ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت استعمال کرنے کے مقدمات فراہم ہو چکے ہوں۔
 وائٹ ہاوس سے نکلنے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایک ماہ سے بھی کم عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے گذشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقتدار میں باقی رہنے کیلئے ہر قسم کا ہتھکنڈہ بروئے کار لانے کیلئے تیار ہیں۔ حال ہی میں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے صدارتی انتخابات کے نتائج میں تبدیلی کیلئے فوج کی مدد حاصل کرنے کے بارے میں مشورہ کیا ہے۔ یہ خبریں منظرعام پر آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ رویٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں اس قسم کی خبریں پھیلانے والوں پر جان بوجھ کر غلط رپورٹس شائع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
 امریکی صدر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "مارشل لاءجعلی خبر۔ یہ جان بوجھ کر غلط رپورٹس شائع کرنے کا ایک اور اقدام ہے۔” امریکی ذرائع ابلاغ نے اتوار کے دن خبر دی کہ ڈونلڈ ٹرمپ مارشل لائ لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا: "ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کچھ مشیروں اور اتحادیوں سے میٹنگ کی ہے جس میں الیکشن کے نتائج تبدیل کرنے کیلئے مارشل لاءلگائے جانے کا آپشن زیر غور لایا گیا ہے۔” ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس رپورٹ کے بارے میں فوری ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ان کی کابینہ میں وائٹ ہاوس کے سب سے پہلے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین نے یہ مشورہ دیا تھا کہ امریکی صدر صدارتی الیکشن تبدیل کرنے کیلئے مارشل لاءکو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
 الیکٹورل کالج کی جانب سے صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی کامیابی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ حتی سینیٹ میں اکثریت کی حامل ریپبلکن پارٹی کے سربراہ اور کانگریس کے اعلی سطحی ماہرین قانون نے بھی جو بائیڈن کی کامیابی کا اعتراف کر لیا ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اپنے اس موقف پر بضد ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی والوں نے وسیع سطح پر دھاندلی انجام دی ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر الیکشن کے نتائج تبدیل کرنے کیلئے طاقت کے ممکنہ استعمال کو مسترد کر رہے ہیں لیکن انہوں نے بارہا آنے والے دنوں میں اپنے حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایسے وقت اقتدار میں باقی رہنے پر اصرار کر رہے ہیں جب حتی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں نے ان سے اپنی شکست تسلیم کر لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
 معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز ملک کی بعض ریاستوں میں مارشل لاءکے نفاذ کے بارے میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: "ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیکل فلین کو ہدایت کی تھی کہ جمعہ کے روز وائٹ ہاوس میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں اس آپشن پر بھی غور کیا جائے۔ یہ میٹنگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جو بائیڈن کے مقابلے میں اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔” حتی امریکہ کی عدالت عالیہ نے بھی دھاندلی کے شبہے میں حالیہ صدارتی الیکشن کے نتائج کالعدم قرار دینے پر مبنی درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکہ میں مارشل لاءنافذ کئے جانے کا خطرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس ملک کا دعوی ہے کہ وہاں دنیا کا آزاد ترین سیاسی نظام حکمفرما ہے۔
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی الیکشن کے نتائج قبول کرنے سے انکار کر دینے کی وجہ سے حکومتی ذمہ داران کی بڑی تعداد شدید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ نیوز ویب سائٹ "ایکسیاس” نے امریکہ کے چند اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں کے بقول لکھا: "ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ تر وقت ایسے افراد کے ساتھ گزارتے ہیں جو سازش پر مبنی مفروضے بنانے اور وہمی ہونے کے طور پر مشہور ہیں۔ وہ امریکی صدر کو طاقت کے بے جا استعمال پر اکسا رہے ہیں۔” گذشتہ چند ہفتوں میں بڑی تعداد میں امریکی تجزیہ کاران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر پریشانی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے نہیں ہو گی۔ دوسری طرف خود ریپبلکن پارٹی کے عہدیداران نے بھی مارشل لاءپر مبنی آپشن کو بہت بڑی غلطی قرار دی ہے۔ 
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular