
سرحدی علاقے جازان میں گاو ¿ں میں بارود سے لدے ڈرون سے سعودی فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔
الحدیدہ میں بھی تین ڈرون سے بھرپور حملہ، جارحین کوصنعا سے گلدستے اور امن کا کبوتر بھیجنے کی توقع نہیں رکھنا چاہئے،یمنی وزیر خارجہ نے خبردار کردیا
ریاض(نیوز ڈیسک) : سعودی عرب کے سرحدی علاقے جازان میں انصار اللہ کی بھرپور جوابی کارروائی میں حکام میں کھلبلی مچادی ،جازان میں گاو ¿ں میں فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اس حملے میں 2 بچوں سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے ، حملے میں ایک گاڑی تباہ اور 3 شہری زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے، ادھر انصار اللہ نے الحدیدہ میں بھی تین ڈرون سے بھرپور حملہ کیا ،عرب اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، یمن کی سالویشن حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی امن و سیکورٹی اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب یمن اور یمنی عوام کو امن و سلامتی کے ماحول میں زندگی بسر کرنے دیا جائے گا، وزیرخارجہ ہشام شرف نے صنعا کی جانب سے سعودی عرب میں بعض اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی ریاض اور بعض دیگر عرب ممالک کی جانب سے مذمت کرنے کے ارادے کے بارے میں کہا کہ جو لوگ اپنے جنگی طیارے یمن کے عام شہریوں کے قتل عام اور یمن کے شہروں اور دیہاتوں کو ویران کرنے کے لئے بھیجتے ہیں انھیں صنعا سے گلدستے اور امن کا کبوتر بھیجنے کی توقع نہیں رکھنا چاہئے ، ریاض بدستور دنیا کو دھوکے میں رکھنا چاہتا ہے اور یمن و ملت یمن کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، عالمی برادری سے یمن کے حالات اور جارح سعودی اتحاد کے اقدامات کے سلسلے میں بیدار رہنے اور آنکھیں کھلی رکھنے کا مطالبہ کیا۔


































