
اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنگ بندی کی تجویز، حدیدہ بندرگاہ سے تیل اور خوراک درآمد کی اجازت، شراکت دارو ں کے ساتھ مل کر کام کریں گے،سعودی وزیرخارجہ
سعودی تجاویز مضحکہ خیز ، میں کوئی نئی بات نہیں ،ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کا کھولا جانا انسانی حق ہے ،جوابی حملوں نے ریاض کو جنگ بندی پر مجبور کیا، انصار اللہ
ریاض /صنعا(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے اندر اہم اہداف پر حملوں نے سعودی حکام کو جنگ بندی کی باتوں پر مجبور کردیا لیکن انصار اللہ سعودی تجاویز کو پرانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کچھ بھی نیا نہیں، زرایع کے مطابق سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے ریاض میں پریس کانفرنس کے دوران یمن میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنگ بندی کی تجویز دی ہے،تجاویز میں حدیدہ بندرگاہ سے تیل اور خوراک کی درآمدات کی اجازت اور مذاکرات کی بحالی کی تجویز بھی شامل ہے،ہم اس امن منصوبہ پر عمل درآمدکیلئے عالمی برادری ،اپنے شراکت داروں اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے،ہم حوثیوں کو مذاکرات کی میز پرلانے اور انھیں ہتھیارڈالنے پرآمادہ کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کریں گے کیونکہ ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ لڑائی کے خاتمے اور بحران کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے ہی سے پیش رفت کی جاسکتی ہے،انصار اللہ نے جنگ بندی کی سعودی تجاویز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جارح ملکوں کو فوری طور پر حملے بند اور محاصرہ ختم کردینا چاہیے، جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی تجاویز میں کوئی نئی بات نہیں ،ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کا کھولا جانا انسانی حق ہے اور اس معاملے کو سیاسی یا فوجی سودے بازی اور دباو کے حربے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے سعودی عرب کے اندر اہم اہداف پر یمنی فوج اور عوامی رضاکا فورس کے حملوں نے آخر کار ریاض حکومت کو جنگ کی باتیں کرنے پر مجبور کردیا ہے


































