
دہشتگردی اور فرقہ واریت کی بجائے، عزاداری سید الشہدا کو روکنے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے،اجلاس میں اظہار خیال
موذنوں کا قتل اتفاقی نہیں،منصوبہ بندی سے کیا گیا، ہماری امن پسندی کو بزدلی نہ سمجھا جائے، جواب دینے کی قوت رکھتے ہیں،علامہ سید سبطین حیدر سبزواری
لاہور (نیوز ڈیسک) شیعہ علما کونسل نے دہشتگردی اور فرقہ واریت روکنے کی بجائے، عزاداری سید الشہدا کو روکنے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری مشینری کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اداروں کی ناقص کارکردگی سے مایوس عوام نے معاملات اپنے ہاتھ میں لئے تو امن و امان برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کی کابینہ اور ڈویڑنل صدور کا اجلاس صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری کی زیر صدارت ہوا، جس میں دہشت گردی، فرقہ واریت، فورتھ شیڈول اور عزاداری کیخلاف مقدمات کا جائزہ لیا گیا اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں لاقانونیت اور بدامنی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، علامہ سبطین سبزواری کا کہنا تھا کہ جڑانوالہ اور بہاولنگر میں مساجد کے اندر موذنوں اور نمازیوں کی شہادت کے واقعات اتفاقی نہیں، یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، جن کا تعلق اسلام آباد کے خارجی تکفیری شرپسند مولوی سے ہے جو اپنے ویڈیو بیانات میں دھمکیاں دیتا ہے کہ شیعوں کیلئے پاکستان کی سرزمین تنگ کر دیں گے، انہوں نے کہا کہ عالمی دہشتگرد گروہ کے حامی شرپسند مولوی کا بیان اور نمازیوں کی شہادت کے دونوں واقعات حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ اور ریاستی اداروں کیلئے چیلنج ہے ، انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کی امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم بھی جواب دینے کی قوت رکھتے ہیں مگر وطن کی سلامتی عزیز ہے، اس لئے خاموش ہے، انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عزاداروں کو خوفزدہ کرنے کیلئے مختلف حیلے بہانوں سے مجالس عزا اور ماتمی جلوسوں کیخلاف ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں اور فورتھ شیڈول کا شریف شہریوں کیخلاف استعمال پولیس اور انتظامیہ کا معمول بنتا جا رہا ہے،ں مگر ریاستی جبر کے باوجود عزاداری ختم ہوئی اور نہ ہی آئندہ ہوگی


































