
تہران : ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی نے حلف اٹھالیا، تقریب حلف برداری کی تقریب ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں منعقد ہوئی جس میں ایران کے اعلیٰ حکام کے علاوہ 70 سے زائد ممالک کی اہم شخصیات، اعلیٰ حکام، نمائندہ وفود اور سفرا و وزراء بھی بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شریک ہوئے، نومنتخب صدر کا تقریب حلف برداری سے خطاب میں کہنا تھا کہ وہ پڑوسی ملکوں سے تعلقات میں بہتری لائیں گے اور نئی حکومت معیشت کی بہتری کیلئے کام کرے گی تاکہ قوم کے مسائل کو حل کیا جاسکے،وہ ایرانی تیل اور عالمی بینکنگ سسٹم پر عائد پابندیاں ہٹوانے کیلئے کام کریں گے، انتخابات کے دوران جو وعدے انہوں نے کیے انہیں پورا کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ عوامی رائے سے بننے والی حکومت عوام کے مفادات کا دفاع کرے گی اور انصاف کے قیام کی راہ میں اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائے گی، اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقتور ایران خطے کی طاقت ہے اور میں تمام ہمسایہ ملکوں کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں، علاقائی تنازعات کو بین العلاقائی تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، سید ابراہیم رئیسی نے واضح کیا کہ خطے میں بیگانہ طاقتوں کی موجودگی نہ صرف مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ یہ خود خطے کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے، ابراہیم رئیسی نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایران، دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت جاری رکھے گا۔


































