
جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا احتجاجی دھرنا مزار قائد کے باہر 17 روز گزرجانے کے بعد بھی تاحال جاری ہے۔ دھرنے میں مختلف سیاسی و مذہبی افراد کی شرکت اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی جاری ہے۔ احتجاجی دھرنے سے خطاب میں علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے مجلس وحدت مسلمین نے دھرنے کے ہر اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ملت تشیع پر ناز ہے، جو حق کے راستے پر ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے، شرکاء دھرنا نے اپنے حوصلوں کو بلند رکھنا ہے، ہم وہ ہیں جو ہمت نہیں ہارتے اور کبھی مایوس نہیں ہوتے، جبری گمشدہ افراد مظلومین ہیں اور مظلوم کی حمایت خدا کا حکم اور انبیاء کا شعار ہے، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہماری یہ جدوجہد آئینی و قانونی ہے، کوئی کتنا بھی بڑا مجرم یا ملزم کیوں نہ ہو، ایک آزاد ریاست میں اسے غائب نہیں کیا جا سکتا، کسی کو جبری لاپتہ کرنا جنگل کا قانون تو ہوسکتا ہے لیکن ایک آئینی ریاست ایسی لاقانونیت کی اجازت نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے میں ایک دن ملک کے ہر بڑے شہر میں لاپتہ افراد کی حمایت میں دھرنے دیئے جائیں گے، تاکہ بے حس حکمرانوں کو جھنجھوڑا جاسکے، ہمیں نتیجے کی فکر نہیں ہوتی، ہم فریضے کو مقدم سمجھتے ہیں۔ ادھر مرکزی احتجاجی دھرنے میں مجلس وحدت مسلمین ضلع جنوبی کے تحت منعقد کئے گئے آٹھویں سالانہ معارف قرآن کلاسز سے علامہ سید کاظم عباس نقوی نے سورہ روم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان جہالت کے مرکب سے پہنچا ہے، جاہل مرکب وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے تئیں سمجھتا ہے کہ وہ سب جانتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء (ع) اور آئمہ اطہار (ع) اصل عالم ہیں، باقی جتنے افراد ہیں وہ طالبعلم ہیں، جو انسان اپنے جہل کا اعتراف کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے علم کا دروازہ کھول دیتا ہے۔


































