| تحریر: تصور حسین شہزاد پاکستان میں جب بھی امن ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی پاکستان دشمن میدان میں آن کھڑا ہوتا ہے اور دوبارہ بدامنی پھیلا کر پاکستان کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ دشمن پاکستان کو خوشحال ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تو بے جا نہ ہوگا۔ جب سے سی پیک کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، پاکستان دشمن قوتیں پریشانی سے دو چار ہیں۔ بھارت اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ رواں ماہ اور دسمبر میں لاہور، کراچی اور پشاور میں دہشتگردی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس او پی آر اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ کہتے ہیں بھارت دہشتگردوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنا رہا ہے، پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے پیچھے بھی بھارت ہے۔ افغانستان میں بھارتی سفارتخانے اور قونصل خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بن چکے ہیں، بھارتی سفارتخانے میں تعینات بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کیساتھ رابطے میں ہے اور 4 بار دہشتگردوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ پاکستان میں داعش بنانے کی سازش کر رہی ہے، اس نے حال ہی میں 30 داعش دہشتگردوں کو پاکستان اور اردگرد منتقل کیا ہے اور کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی اور اجمل پہاڑی نے بھارت میں ٹریننگ لینے کا اعتراف کیا تھا۔ بھارت پاکستان میں کالعدم تنظیموں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ان کی ایجنسیز اور ان کے سہولت کاروں کے درمیان متعدد نشستیں ہو چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے شواہد بھی حکومت کے پاس موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور ڈی آئی اے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو فنانس کر رہی ہیں، بھارت میں ایک خصوصی سیل بنایا گیا ہے، یہ سیل وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کام کرتا ہے، اس سیل کا مینڈیٹ سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی اس سیل کو 80 ارب روپیہ دے چکے ہیں، ان مقاصد کے حصول کیلئے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کم از کم 700 کی ملیشیا بنائی گئی ہے جو کہ سی پیک کے منصوبوں کو گاہے بگاہے نشانہ بنائے گی۔ دوسری جانب بھارت مسلسل سیز فائر کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے، یہ سب سے اہم معاہدہ ہے جو کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طے ہوا تھا جس روانی سے بھارت اس معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ وہ ریاست جو دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتی تھی وہ اپنی حرکتوں اور کارروائیوں سے ایک روگ سٹیٹ کا روپ اختیار کرنے جا رہی ہے۔ حکومت پاکستان کے پاس اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ انڈیا سٹیٹ ٹیررازم کو ہوا دے رہا ہے، انڈیا نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف نمایاں کامیابیوں کو انڈیا ہضم نہیں کر پا رہا ہے۔ بھارت کا پلان واضح ہو چکا ہے، نائن الیون کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پاکستان ایک فرنٹ لائن سٹیٹ بن چکا ہے، فرنٹ لائن سٹیٹ کے ناطے پاکستان نے ایک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، اس کا اعتراف کیا بھی جاتا ہے لیکن جتنا ہونا چاہیئے اتنا نہیں ہوتا۔ 2001ءسے 2020ءتک 19 ہزار 130 دہشتگردانہ حملے پاکستانیوں نے سہے ہیں۔ 83 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، ان میں 32 ہزار شہادتیں ہیں، ان شہادتوں میں 23 ہزار سولینز ہیں، بچے اور خواتین ہیں، 9 ہزار کے قریب قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے جوان اور افسران ہیں، اگر مالی نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کو 126 ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان پہنچا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دنیا کے امن و استحکام کو حاصل کرنے کیلئے شراکت داری میں مصروف تھا تو اس وقت انڈیا پاکستان کے گرد دہشتگرد نیٹ ورک کا جال ب ±ن رہا تھا۔ انڈیا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرنے کیلئے اجازت دے رہا تھا، نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ جہاں جہاں جگہ ملی اس کا انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ پچھلے تین چار ماہ میں دہشتگردی کو پھر ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی پھر پشت پناہی کی جا رہی ہے اور اس کی تازہ مثال حالیہ حملے ہیں جو پشاور، کوئٹہ میں ہوئے ہیں اور یہ گرینڈ ڈیزائن کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز ان کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جن کو پاکستان نے شکست دی، انہیں اکھاڑ کر پھینک دیا گیا، آج ان میں پھر روح پھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کو اسلحہ اور آئی ڈیز سپلائی کی جا رہی ہیں اور ان کو ا ±کسایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کریں اور خاص طور پر علمائ ، قائدین اور پولیس آفیشلز کو نشانہ بنائیں۔ اگست 2020ءمیں انڈیا نے ٹی ٹی پی، جے یو اے اور ایچ یو اے کو یکجا کیا، ان فریکشن کو یکجا کرنے میں کردار واضح ہو گیا ہے، آج انڈیا مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے کو یکجا کر دے، یہ اسی گرینڈ ڈیزائن کا حصہ ہے۔ انڈیا کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردانہ منصوبے کے پیچھے تین بڑے مقاصد ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی امن پیشرفت میں خلل ڈالا جائے، دوسرا مقصد پاکستان معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے اور پاکستان کی خوشحالی کے راستے میں دیوار کھڑی جائے، اس کی تازہ مثال حالیہ فیفٹ کی پلیمینری میٹنگ میں انڈیا وہ واحد ملک تھا جو پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھیجنے کیلئے کوشش کر رہا تھا جبکہ دنیا پاکستان کے اقدامات کو سراہ رہی تھی۔ بھارت کی کوشش تھی کہ یہاں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جس سے معاشی استحکام ممکن نہ ہو سکے۔ تیسرا مقصد سیاسی عدم استحکام ہے، اس کے ذریعے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جب سے سی پیک کا اعلان ہوا ہے، بلوچستان کے اندر دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب انڈیا آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں شورش کو ہوا دینا چاہتا ہے، کل گلگت بلتستان کا الیکشن ہے، انڈیا نے وہاں نیشنلزم کو ہوا دینے کی کوشش کی، الیکشن کے بعد بھی بھارت کے ارادے نیک نہیں۔ دنیا کو یقیناً علم ہے اور ہونا بھی چاہیئے کہ بھارت تین انٹرنیشنل کنونشنز کی صریحاً خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ادھر پاکستانی حکومت نے کھل کر بھارتی مداخلت کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ را نے 55 ہزار 581 ڈالر بھارتی بینک کے ذریعے منتقل کئے، 0.82 ملین ڈالر بھارت نے ٹی ٹی پی کمانڈرز کو منتقل کئے، بھارت نے 700 دہشتگردوں کی فورس بنائی اور اسے 60 ملین ڈالر دیئے، بلوچستان میں انتشار کیلئے بھارت نے 23.5 ملین ڈالر دیئے، الطاف حسین گروپ کو 3.23 ملین ڈالرکی رقم دی گئی، پی ایس ایکس حملے میں بھارتی بارود اور خودکش جیکٹ استعمال ہوئیں۔ را نے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے 22 ملین روپے دیئے۔ را ایجنٹ ٹی ٹی پی کے نمائندوں سے ملتے رہے۔ بھارت نے الطاف حسین گروپ کو اعشاریہ 26 ملین ڈالر کے ہتھیار دیئے۔ بھارت دہشتگردی کے87 کیمپ چلا رہا ہے۔ سابق بھارتی سفارتکار جنرل نے حاجی گاگ میں دہشتگردی کیمپ کا دورہ کیا، قندھار میں کیمپ کیلئے بھارت نے 30 ملین ڈالر دیئے۔ بھارت کے حوالے سے اتنے مصدقہ حقائق کے باوجود اگر عالمی برادری خاموش رہتی ہے تو یہ اس کا دوہرا معیار ہوگا۔ بھارت کو صرف یہی خدشہ ہے کہ پاکستان خوشحال ہوگیا تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کشمیر چھین لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا اسی خوف کے تابع پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ دوسرا امریکہ میں ٹرمپ کے شکست کے بعد مودی خود کو یتیم تصور کر رہا ہے۔ ایران پہلے اسے جھنڈی کرا چکا ہے، انڈیا اب خود کو خطے میں تنہا ہوتا ہوا محسوس کر رہا ہے جبکہ پاکستان ایک مضبوط بلاک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ بھارت کا یہ خوف خود اسے بربادی کی کھائی میں دھکیل دے گا جبکہ پاکستان میں فوج اور حکومت ایک پیج پر ہونے سے دفاعی معاملات کافی مضبوط ہیں۔ ایسی صورت میں بھارت کی کوئی بھی غلط حرکت خود اس کی اپنی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ |


































