
مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا ٹرمپ کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے، یہودی ریاست کی حیثیت سے اسرائیل کا مستقبل یقینی بناناہوگا، انٹونی بلنکن
ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے، ایٹمی معاہدہ میں دوبارہ شمولیت کیلئے اتحادیوں کے تحفظات دیکھنا ہوں گے،نامزد وزیر خارجہ
واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکا کی نئی حکومت نے بھی مسلم دشمن پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا، نامزد وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا ٹرمپ کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے، سینیٹ کمیٹی میں اپنی توثیق سے متعلق سماعت میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ یہودی ، جمہوری ریاست کی حیثیت سے اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے اور فلسطینیوں کوجمہوری ریاست دینے کا واحد راستہ نام نہاد دو ریاستی حل کے ذریعہ ہے۔ لیکن میرے خیال میں حقیقت پسندانہ طور پر عنقریب اس راستے پر آگے بڑھنے کے امکانات کو دیکھنا مشکل ہے، اس سے اہم بات یہ ہوگی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی پارٹی ایسے اقدامات نہیں کرے گی جو پہلے سے مشکل عمل کو مزید مشکل بنادے، انہوں نے ایران کے خلاف بھی سخت پالیسی جاری رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنی شرائط پر عمل پیرا ہوتا ہے ہیں توجوبائی?ڈن دوبارہ اس معاہدے میں شامل ہوں گے لیکن اس میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے تحفظات کو بھی دیکھیں گے مسئلہ کا طویل تر اور مضبوط معاہدہ کا حل دوبارہ جامع مذاکرات ہیں، انہوں نے یمن کے انصار اللہ کو دہشتگرد قرار دیے جانے کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کا کہا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ کب کیا جائے گا۔


































