
بچوں کو گھر پر پڑھانے پر پابندی، خلاف ورزی پر والدین پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے مسلم بچوں کو شناختی نمبر دیا جائے گا
جمہوری اقدار کے چارٹر پر رضامندی کیلئے فرنچ کونسل آف مسلم کو دھمکیاں ،نئے قوانین کے تحت مساجد میں امام کو حکومت کی مرضی سے لگایا اور ہٹایا جاسکے گا
پیرس(نیوز ڈیسک) فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے مسلمانوں پر اپنی سرزمین مزید تنگ کرنے کا منصوبہ بنالیا، انتہاپسندی کی آڑ میں مسلمانوں کیخلاف سخت ترین قوانین نافذکئے جائیں گے ، اس حوالے سے بل تیار کرلیا گیا جو9 دسمبر کو کابینہ میں پیش کیا جائے گا ،بل کے تحت گھر پر پڑھانے پر پابندی ہوگی اور ان لوگوں کو سخت سزادی جائے گی جو سرکاری ملازمین کو مذہبی بنیادوں پر ڈرائیں دھمکائیں گے،بچوں کو شناختی نمبر دیا جائے گا تاکہ نگرانی کی جا سکے کہ وہ اسکول جا رہے ہیں، خلاف ورزی پر والدین پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور چھ ماہ کی جیل بھی ہو سکتی ہے،ایسی ذاتی معلومات کی ترسیل پر پابندی جو کسی شخص کی ذات کے لیے خطرہ بن سکتی ہو اور دشمن عناصر اس معلومات کو استعمال کر کے اس شخص کو نقصان پہنچا سکتے ہوں،وزیر داخلہ ڈارمانن نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو سخت گیر اسلام پسندوں کے چنگل سے بچانا ہوگا،ادھر فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کو 15دن کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ جمہوری اقدار کے چارٹر پر رضامندی اختیار کریں جو کہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے خلاف حکومتی کریک ڈاو ¿ن کا حصہ ہے ،نئے قوانین کے تحت سی ایف سی ایم نیشنل کونسل آف امام تشکیل دے گی، فرانس میں مساجد میں امام کو حکومت کی مرضی سے لگایا اور ہٹایا جاسکے گا،رپورٹ کے مطابق چارٹر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام مذہب ہے کوئی سیاسی تحریک نہیں، فرانس میں مسلمانوں کے معاملے پر غیرملکی مداخلت کو روکا جائے گا،سی ایف سی ایم نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ نیشنل کونسل آف امام قائم کرے گی جو کہ ملک میں امام کے لیے باضابطہ اجازت نامے جاری کرے گی اور ان اجازت ناموں کو واپس بھی لے سکے گی۔


































