
کربلا، نجف،المثنیٰ، الانبار اور بصرہ میں سعودی عرب کو375 ملین مربع میٹر زمین دینے کا اعلان ، سعودیہ زراعت اور مویشی پالنے کے منصوبے لائے گا
سعودیہ سرمایہ کاری کے بہانے تسلط قائم کرنا چاہتا ہے ،وہ امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف رہا ہے،عوام مخالفت کریں،عصائب اہل حق
بغداد(نیوز ڈیسک) عراق کے عوام نے تین شیعہ اکثریتی صوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے سعودی منصوبے پر تحفظات ظاہر کردئے اور اسے عراقی سرزمین پر قبضے کا منصوبہ قرار دے دیا، عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے5صوبوں کربلا، نجف،المثنیٰ، الانبار اور بصرہ میں سعودی عرب کو375 ملین مربع میٹر زمین سعودی عرب کو دینے کا اعلان کیا ہے جہاں سعودی عرب، زراعت اور مویشی پالنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کریگا،حکومتی فیصلے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ نوری المالکی، علی الاسدی سمیت متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے ، عصائب اہل حق کے سیکریٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب عراق کے صوبوں میں سرمایہ کاری کے بہانے ان علاقوں پر تسلط قائم کرنا چاہتا ہے منصوبے میں سعودی فوجیوں کی جانب سے سیکیورٹی خدشات بھی شامل ہیں اور ماضی پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب عراق کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف رہا ہے ، تمام دانشوروں ، قبائلی عمائدین، طلبا اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ سعودی عرب کے اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کریں ،ورنہ عراق میں سعودی مداخلت کا راستہ کھل جائیگا،ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا سرمایہ کاری کیلئے شیعہ علاقوں کا انتخاب ازخود اس بات کی دلیل ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جتنانظرآرہا ہے۔


































