| جیسے جیسے شہید قاسم سلیمانی کی پہلی برسی کے دن قریب آتے گئے امریکی اور اسرائیلی حکام کی نیندیں اڑتی چلی گئیں،3جنوری وہ دن تھا جب امریکا نے کھلی دہشت گرد ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی فوج کے ایک جنرل کو دوسرے ملک کی سرزمین پر نشانہ بنادیا،یہ دنیا کی تاریخ کا پہلاواقعہ تھا جب کسی ملک نے دوسرے ملک کے حاضر سروس جنرل کو کھلے عام نشانہ بنایا ہو،یہ دہشت گردی ایسی نہیں تھی کہ جسے فراموش کردیا جائے اور بغیر انتقام لئے چھوڑ دیا جائے ،یہی وجہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کے قاتل مضطرب ہیں کہ وہ انتقام سے بچ نہیں سکیں گے ،اور برسی نزدیک آنے پر ان کے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے اور انہوں نے انتقام کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگینڈا بھی شروع کررکھا ہے،شہید قاسم سلیمانی دورِ حاضر میں حریت کی علامت اور آزادی کا نشان ہیں، وقت کے یزید کو نہ صرف للکارنے بلکہ ہر میدان میں شکست سے دوچار کرنے کا اعزاز قاسم سلیمانی کے حصے میں آیا ہے۔ چاہے وہ ایران کا محاذ ہو یا عراق کا۔ یمن کی تحریک ہو یا ، عراق کا میدان ہو یا شام کا،یا فلسطین کی سرزمین ، ہر مقام اور ہر مرحلے پر قاسم سلیمانی صف ِاول میں نظر آئے گا،یہ قاسم سلیمانی کے رعب و دبدبہ کا ہی اثرتھاکہ دشمن نے اول دن سے ہی انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے سازشوں کے جال نہایت تیزی سے بننا شروع کیے، تین بار بڑے حملوں کے باوجود شہید سلیمانی اور ان کے جانثار دوست محفوظ رہے، تاکہ خدا نے جو امور ان کے ذمہ کر دیئے تھے، انہیں مکمل کیا جا سکے، بہت سے لوگ اپنے ملک کے مفادات کے لیے جان قربان کرتے ہیں، ان کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کے ایام کو منانا اس ملک و قوم کی ذمہ داری ہوتی ہے، جس کے لیے انہوں قربانی دی ہوتی ہے لیکن کچھ شخصیات ملک واقوام سے ماورا ہو کر انسانیت کی خدمت کرتی ہیں، شہید جنرل قاسم سلیمانی انہی خصوصیات کے حامل تھے،جس وقت داعش عراق کو تہہ وبالاکررہی تھی دہشت گرد سامرا و کاظمین کے قریب پہنچ چکے تھے ایسے میں یہ مرد حر اٹھا اور اس نے ایسی منصوبہ بندی کی کہ آج داعش عراق میں قصہ پارینہ بن چکی ہے ، قاسم سلیمانی کی کوششوں سے ہی آج داعش کا خطرہ ٹلا، ورنہ پورا خطہ بالعموم اور مسلمان ممالک بالخصوص آج اس فتنے کے اثر میں ہوتے اور ان میں آگ لگی ہوتی۔ |


































