
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع خطے پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں بعض اطلاعات کے مطابق متعدد فوجیوں سمیت کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جنگ کی سطح تک پہنچ چکی ہے اور آرمینیا اور آذربائیجان نے اپنی اپنی سرحد پر ٹینک ، توپ اور جنگی طیارے تعینات کردئے ہیں ۔ اس درمیان آرمینیا نے ملک میں مارشل لا لاگو کرتے ہوئے اپنی افواج کو سرحد کی جانب کوچ کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے آرمینیا اور آذربائیجان سے نگورنو قرہ باغ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین شروع ہونے والے فوجی تنازع پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور فوجی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ۔
در ایں اثناء ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو میں ان سے صبر و تحمل سے کام لینے اور فوری طور پر جنگ بندی اور عالمی قوانین کے دائرے میں مذاکرات کرنے کی اپیل کی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران سیز فائر اور مذاکرات کے آغاز کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کے محکمہ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپوں کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران باکو اور ایروان کے درمیان کشیدگی کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔


































