
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مغرب بھول گیا کہ اس نے عراق، لیبیا، سوڈان، شام میں کیا کیا۔ روسی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماسکو نے یوکرینی بحران پر بات چیت کو مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی روس اور نیٹو کے درمیان تصادم نہیں چاہتا لیکن اگر کوئی چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کے نیٹو میں شمولیت کے امکانات روس کی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ ہیں۔ نیٹو کے فوجی ڈھانچے کی پیش قدمی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کل پیدا نہیں ہوا۔ یوکرین کو مغرب کی کچھ قوتوں نے اکسایا، جو کئی سالوں سے روس کے ساتھ ہائبرڈ جنگ کی تیاری کر رہی تھیں تاکہ روسی فیڈریشن کی سلامتی کی بنیادوں کو کمزور اور اس کی دنیا میں روسی پوزیشنوں کو نقصان پہنچایا جائے۔


































