
غزہ : حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں حماس رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اس حقیقت کو امریکی انتظامیہ، ثالث ممالک اور دنیا جانتی ہےکہ جنگ بندی کی کوششوں کو ہمیشہ جنگی مجرم نیتن یاہو نے سبوتاژ کیا۔
ادھر حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے لبنان کے المیادین ٹی وی کو انٹرویو میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو درست قدم قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف علامتی اقدامات کافی نہیں بلکہ عملی دباؤ اور پابندیاں ضروری ہیں تاکہ اسرائیلی جارحیت رُک سکے اورغزہ کے شہریوں تک امداد پہنچ سکے۔ حمدان نے کہا کہ کئی حکومتیں اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے صرف علامتی تسلیم کرنے پر اکتفا کررہی ہیں۔ حمدان کے مطابق اسرائیل کی مذاکراتی پیشکشیں محض وقت خریدنے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں، کیونکہ تل ابیب کسی حقیقی جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔


































