
Egypt’s current Permanent Representative of Egypt to the U.N. Osama Abdekhalek, Russian Ambassador to the U.N. Vassily Nebenzia, Palestinian U.N. envoy Riyad H. Mansour, and Chinese Ambassador to the U.N. Zhang Jun interact on the day of a meeting of Members of the United Nations Security Council for voting on a proposal to demand that Israel and Hamas allow aid access to the Gaza Strip via land, sea and air routes and set up U.N. monitoring of the humanitarian assistance delivered during a meeting at the U.N. headquarters in New York, U.S., December 19, 2023. REUTERS/Shannon Stapleton
غزہ: غزہ میں جنگ بندی سے متعلق متحدہ عرب امارات کی قرارداد پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مسلسل تیسرے روز بھی ووٹنگ نہ ہو سکی۔
یاد رہے کہ غزہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شہادتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مین ہیٹن ہیڈ کوارٹر میں غزہ کی حالت زار سے متعلق جاری بحث کے دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ووٹنگ سے قبل سفارتکاری کیلئے مزید ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے تیسری مرتبہ ووٹنگ ایک روز کیلئے مؤخر کر دی۔ سکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد پر کونسل کے مستقل رکن امریکا کی جانب سے جنگ بندی (Ceasefire) کا لفظ استعمال کرنے پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جبکہ اس سے قبل امریکا دو مرتبہ سکیورٹی کونسل میں غزہ جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ویٹو بھی کر چکا ہے۔ امریکا نے کہا ہے کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی کا فائدہ حماس کو ہوگا، قرارداد میں سیز فائرکا لفظ حذف کیا جائے۔
یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کرنے والے ملک متحدہ عرب امارات نے پیر کو ہونے والی ووٹنگ کو ایک دن کیلئے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جس پر ووٹنگ منگل تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ تاہم منگل کے روز بھی قرارداد پر ووٹنگ نہ ہو سکی جبکہ یو اے ای کی جنگ بندی سے متعلق پہلی قرار داد کو بھی امریکا نے سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا تھا۔


































