
کاراکس: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اعلان کیا ہے کہ ملک “مسلّح جدوجہد” کے لیے تیار ہے اور امریکہ کی ممکنہ جارحیت کے جواب میں 2.5 ملین فوجی اور ملیشیا اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مادورو کا کہنا ہے کہ وینزویلا نے اپنی قومی طاقت کو مضبوط کیا ہے، اتحاد کی فضا بہتر ہوئی ہے، اور وہ کسی بھی صورتِ حال میں آزادی برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے، چاہے حالات “مسلّح جدوجہد” کی طرف کیوں نہ جائیں ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ وینزویلا کی دولت جس میں تیل، گیس، لوہا اور سونا شامل ہیں پر قبضہ کیا جا سکے۔ مادورو نے یہ بھی کہا کہ “منشیات کے کاروبار” کا الزام محض بہانہ ہے، ایک جعلی کہانی ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور دنیا جانتی ہیں کہ امریکہ کی کارروائی نہ صرف منشیات کی روک تھام کے لیے ہے بلکہ یہ ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد حکومت بدلنا اور وینزویلا کی معیشت و وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔


































