
واشنگٹن : امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ اسے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے باضابطہ مینڈیٹ حاصل کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں اقوام متحدہ کی سخت ناقد رہی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک سول و عسکری کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کر رہا ہے، جس کے بعد وہ اقوام متحدہ سےبین الاقوامی مینڈیٹ حاصل کرنے پرغورکرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی جنگ بندی منصوبے کے تحت عرب اور مسلم ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی فورس کو غزہ میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس میں مصر، قطر، اردن، انڈونیشیا، آذربائیجان اور یو اے ای شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مصر نے نہ صرف اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کی حمایت کی ہے بلکہ امریکی فوج کی محدود تعیناتی کی بھی تجویز دی تھی، جسے نائب صدر جے ڈی وینس نے مسترد کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب و مسلم ممالک اس فورس کو اقوام متحدہ کی منظوری دلوانا چاہتے ہیں تاکہ اسے فلسطینی عوام کی نظر میں جائز اور غیر جانبدار سمجھا جائے۔
سابق اقوام متحدہ عہدیدار ژاں میری گہینو نے کہا کہ اگر یہ فورس اسرائیل کی مرضی سے تشکیل پاتی نظر آئی تو اسے فلسطینی کبھی قبول نہیں کریں گے۔


































