
واشنگٹن : بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر امریکی کانگریس میں مذمتی قرارداد جمع کرادی گئی ہے۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جس پر دنیا نے اب تک آنکھیں موند رکھی تھیں تاہم سیکولر ازم کا جھوٹا ڈھنڈھورا پیٹنے والے مودی کے نام نہاد شائننگ بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر اب دنیا بھر میں آواز اٹھنے لگی ہے اور بھارت میں ہونے والے حالیہ اقدامات کے خلاف امریکی کانگریس میں مذمتی قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ڈیموکریٹک رکن کانگریس الہان عمر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں، دیواسیوں اور دیگر مذہبی و ثقافتی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس لیے بھارت کو مذہبی آزادی پر خصوصی تشویش والے ملک کا درجہ دیا جائے۔ امریکی کانگریس میں اسلامو فوبیا پر سماعت 30 جون کو ہوگی، جس میں بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے گستاخانہ بیانات کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔


































