
واشنگٹن : تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے بحری بیڑے ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں۔ امریکی اسپیکر نینسی پلوسی کا دورہ تائیوان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی وجہ بنا۔ امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہےکہ دونوں امریکی جنگی جہاز جاری آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔امریکی بحریہ نے کہا کہ یہ امریکی جہاز سمندر میں اس گزرگاہ سے گزرے گا جو کسی بھی ساحلی ریاست کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ نہیں۔ یہ آپریشن آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کے لیے امریکا کے عزم کا مظاہرہ ہے اور جہاں بھی عالمی قانون اجازت دیتا ہے امریکی فوج وہاں پرواز کرتی ہے، سمندری سفر کرتی ہے اور آپریشن کرتی ہے۔ امریکا کی جانب سے آبنائے تائیوان میں بحری جہاز بھیجنے کے بعد چین نے اپنے بحری بیڑوں اور جنگی جہازوں کو تائیوان کے گرد تعینات کرنا شروع کر دیا ہے۔ 8 چینی بحری بیڑوں اور 23 طیاروں کو تائیوان کی سرحد کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔ چینی فوج کے مطابق وہ مسلسل ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی عسکری اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ وہ آبنائے تائیوان میں حالات پر بہت قریب سے نگاہ رکھے ہوئے ہے اور یہ مانیٹرنگ بھی کر رہے ہیں کہ اس سمندری علاقے میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہاز کیا کر رہے ہیں۔


































