
اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات نے صرف چار ماہ میں گیس کی قیمت میں ساڑھے 800 فیصد اضافے کا انکشاف کردیا۔
ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا جس میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات پیش کردی گئیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے اشیائے خور و نوش کی شرح میں مہنگائی کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران چینی کی قیمت میں ساڑھے 53 فیصد اور پام آئل کی قیمت میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق سویا بین آئل،گندم اور خام تیل کی قیمتیں گزشتہ پانچ سال میں 35 فیصد بڑھیں۔ حکام نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو مجموعی مہنگائی کی وجہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق حکومت نے نومبر 2023 میں گیس کے ٹیرف میں 520 فیصد جب کہ فروری 2024 میں 319 فیصد اضافہ کیا۔ اسی طرح نومبر 2023 میں بجلی کے نرخوں میں 35 فیصد، فروری 2024 میں 75 فیصد اضافہ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے مہنگائی میں مجموعی اضافہ ہوا۔
وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ 840 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 110 فیصد سے زائد اضافے جبکہ روپے کی قدر میں 43 فیصد کمی نے غیر معمولی مہنگائی میں اہم کردار ادا کیا ہے جس نے بہت سے پاکستانیوں کی قوت خرید اور معیار زندگی کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف اسٹیبلائزیشن پروگرام کے تحت حکومت نے طویل عرصے سے واجب الادا یوٹیلیٹی قیمتوں (بجلی اور گیس) میں اضافہ کیا ہے۔ حکومتی رکن پارلیمنٹ طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نومبر 2023ء سے فروری 2024 تک گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔


































