
نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں، ایک انٹرویو میں انتونیو گوتریس نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ طالبان کے حکومت میں آنے سے افریقی ممالک میں موجود جہادیوں کو تقویت مل سکتی ہے، تمام رکن ممالک کو افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے تاکہ اپنے اصولوں سے براہ راست آگاہ کر سکیں، ہمارا فرض ہے کہ ان افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے جو بہت زیادہ مصیبت میں مبتلا ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں افراد کا بھوک سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہو،انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں معاشی بحران نہ پیدا ہونے دیں، سیکریٹری جنرل نے عالمی پابندیوں اور افغانستان کے مالی ذخائر کے منجمند ہونے کا ذکر کیے بغیر کہا کہ مالیاتی اقدامات سے افغانستان کی معیشت کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی، انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتائج سے متعلق کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ نہ بنے، خواتین اور لڑکیاں وہ تمام حقوق نہ کھوئیں جو انہوں نے گذشتہ عرصے میں حاصل کیے اور تمام نسلی گروہوں کی برابر نمائندگی ہو، تو بات چیت ضروری ہے۔


































