
علما و ذاکرین کانفرنس، اتحاد ملت کا عملی مظاہرہ، متنازعہ بل کیخلاف یکم ربیع الاول کو اسلام آباد میں اجتماع کا اعلان
-
Raza Musani - اگست 17, 2023
- سلائیڈر
- 25
- 0 minute read


اسلام آباد: اسلام آباد میں آل پاکستان علماء و ذاکرین کانفرنس میں متنازعہ بل کیخلاف یکم ربیع الاول کو اسلام آباد میں قومی اجتماع کا اعلان کردیا گیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے قائدین، علمائے کرام اور ذاکرین عظام شریک ہوئے۔ علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ بل کسی صورت قبول نہیں۔ پوری قوم متحد ہو کر ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ہم نے پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا۔ مقدسات کا احترام اور مشترکات کا قیام ہمارا مشن ہے۔ یہ بِل بدمعاشی اور فتنہ ہے۔ یہ پاکستان اور ملت تشیع کے ہر فرد کا مسئلہ ہے۔ یہ بِل اہلسنت کی طرف سے نہیں تکفیریوں کا ہے، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے، یہ صحابہ کے نام پہ دھوکہ دہی ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی کا کہناتھا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوں گے احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو یکم ربیع الاول کو اسلام آباد میں ہونگے اور اس وقت تک اسلام آباد میں رہیں گے جب تک مسئلے کا حل نییں نکلتا، جس طرح مدینہ سے کربلا کا سفر ہوا تھا، اسکو یاد کرکے مکمل تیاری سے اسلام آباد آئیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہاکہ تحفظ ناموس تکفیریت ہار گئی تو تکفیری بِل لایا گیا۔ ادارے ہوش کے ناخن لیں اور خود کو ان تکفیروں سے جدا رکھیں۔ ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، ہماری لاشیں تو گرسکتی ہیں۔ مگر یہ بِل قبول نہیں کریں گے۔ اربعین حسینی پر پوری قوم باہر نکلے گی اور یزیدیت کو نامراد کرے گی۔ جب تک سیاسی طاقت نہیں ہوگی، ایسے بِل پاس ہوتے رہیں گے۔
ایم ڈبلیو ایم کے جنرل سیکریٹری ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ یہ بِل صحابہ(رض) اور اہلبیت (ع) کی توہین روکنے کیلئے نہیں، صحابہ(رض) اور اہلبیت(ع) کے گستاخوں کو بچانے کا بِل ہے۔
امام خمینی ٹرسٹ کے سربراہ علامہ افتخار حسین نقوی نے کہا کہ یہ بِل حسینیوں کے خلاف ہے ہماری مجالس میں کسی صحابی کے خلاف بات نہیں کی جاتی۔ یزیدیت کے تحفظ اور اسلامی وحدت کے خلاف بِل ہرگز قبول نہیں۔

وفاق المدارس شیعہ کے صدر علامہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا کہ دہشت گردوں کے نظریات کو ملت جعفریہ پر لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر قربانی دیں گے، مگر ہم حق کہنے سے کبھی نہیں رکیں گے۔

امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ قائد اعظم کے جانشینوں کو جدا کرنے کا بِل ہے، اب کوئی شیعہ خاموش نہیں بیٹھے گا، مطالبات کی منظوری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پوری ملت جعفریہ متنازعہ بِل کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔
آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر حسن عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تاریخی اجتماع ملت تشیع کی جدوجہد اور استقامت کا اہم سنگ میل طے کرے گا۔ چور دروازوں سے ملت تشیع کےخلاف قانون سازی ناقابل برداشت ہے۔ ملت تشیع پاکستان کا ہر فرد اتحاد، مزاحمت اور احتجاجی لائحہ عمل سے ہر سازش کو ناکام بنائے گا۔ علمائے کرام کی سرپرستی میں ہر اول دستے میں پیش پیش رہیں گے۔

اجتماع میں پاکستان کے طول و عرض سے کثیر تعداد میں علمائے کرام، ذاکرین عظام، شعراء، عمائدین اور خواص نے شرکت کی اور اتحاد ملت کا عملی مظاہرہ کیا۔