Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

جولائی تا جنوری 9 ہمسایہ ممالک کیساتھ 6 ارب 37 کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ

پاکستان کا 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ مالی سال 25 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 40.42 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جو ایک سال قبل 4 ارب 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بنیادی طور پر چین، بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے بڑھا، گزشتہ سال کے مقابلے میں جولائی تا جنوری مالی سال 25 کے دوران افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اس نمو نے بڑی حد تک چین کو برآمدات میں کمی کو پورا کیا ہے۔

مالی سال 24 میں ان ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 9 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد رہا، جو اس سے پچھلے سال کے 6 ارب 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔
جولائی تا جنوری مالی سال 25 کے دوران پاکستان کی 9 ممالک افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو برآمدات 5.91 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 ارب 60 کروڑ 9 لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 19 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

یہ برآمدات مالی سال 24 کے 7 ماہ کے 17 ارب 77 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 10.16 فیصد زیادہ ہیں، مجموعی برآمدات میں علاقائی ممالک کا حصہ صرف 14 فیصد ہے۔ اسی طرح مالی سال 25 کے 7 ماہ میں درآمدات 27.83 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جو مالی سال 24 کے 7 ماہ میں 7 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔ مزید تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 25 کے 7 ماہ میں چین سے درآمدات 27.99 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ارب 90 کروڑ 7 لاکھ ڈالر رہیں، جو ایک سال قبل 6 ارب 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالرتھیں، مالی سال 24 میں چین سے درآمدات 13 ارب 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں۔

یہ درآمدات گزشتہ سال کے 9 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 39.78 فیصد زیادہ ہیں، خطے میں زیادہ تر درآمدات چین سے حاصل کی جاتی ہیں، اس کے بعد جزوی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں چین کو پاکستان کی برآمدات 14.36 فیصد کم ہو کر ایک ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جو مالی سال 24 کے 7 ماہ میں ایک ارب 72 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 25 کے 7 ماہ میں بھارت سے درآمدات 12.21 فیصد اضافے کے ساتھ 13 کروڑ 50 لاکھ 35 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 12 کروڑ 62 ہزار ڈالر تھیں۔

مالی سال 24 میں بھارت سے درآمدات 8.866 فیصد اضافے کے ساتھ 20 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے میں 19 کروڑ 40 ہزار ڈالر تھیں۔ دریں اثناء مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں بھارت کو برآمدات 4 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال محض ڈیڑھ لاکھ ڈالر تھیں، مالی سال 24 میں بھارت کو برآمدات 36 لاکھ 69 ہزار ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں افغانستان کو برآمدات 94.16 فیصد اضافے کے ساتھ 55 کروڑ 60 لاکھ 86 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال قبل 28 کروڑ 60 لاکھ 79 ہزار ڈالر تھیں۔

مالی سال 2024 کے 7 ماہ میں درآمدات 50 لاکھ 16 ہزار ڈالر کے مقابلے میں ایک کروڑ 50 لاکھ 21 ہزار ڈالر رہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کے اعداد و شمار دستیاب نہیں، کیوں کہ ایران کے ساتھ زیادہ تر تجارت غیر رسمی چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم، پاکستان نے بلوچستان کی غیر محفوظ سرحد کے ذریعے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کے پیش نظر بارٹر ٹریڈ کا انتخاب کیا ہے۔ مالی سال 25 کے پہلے 7 ماہ میں بنگلہ دیش کو برآمدات 28.74 فیصد اضافے کے ساتھ 46 کروڑ 50 لاکھ 33 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 36 کروڑ10 لاکھ 44 ہزار ڈالر تھیں۔

مالی سال 25 کے 7 ماہ میں درآمدات 44.90 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 90 لاکھ 5 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 3 کروڑ 30 لاکھ 85 ہزار ڈالر تھیں، ڈھاکا میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد یہ اضافہ ہوا۔ چاول کے برآمد کنندہ شمس الاسلام کے مطابق 26 ہزار 250 ٹن سفید چاول لے جانے والا پہلا مکمل طور پر بھرا ہوا پی این ایس سی جہاز 4 مارچ کو بنگلہ دیش پہنچے گا۔ دسمبر 2024 میں بنگلہ دیش نے جی ٹو جی کی بنیاد پر ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان سے چاول درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، ٹی سی پی چیئرمین نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔

فروری کے پہلے ہفتے کے دوران 50 ہزار ٹن چاول کے پہلے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں سری لنکا کو برآمدات 12.34 فیصد اضافے کے ساتھ 25 کروڑ 60 لاکھ 19 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جوگزشتہ سال کے اسی عرصے میں 22 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں، درآمدات 3 کروڑ 40 لاکھ 55 ہزار ڈالر پر مستحکم رہیں، نیپال کو ترسیلات گزشتہ سال کے 10 لاکھ 88 ہزار ڈالر سے گھٹ کر 16 لاکھ 20 ہزار ڈالر ہوگئیں۔ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں مالدیپ کو برآمدات 50 لاکھ 35 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 50 لاکھ 53 ہزار ڈالر ہو گئیں، پاکستان اور بھوٹان کے درمیان کوئی تجارت نہیں دیکھی گئی۔

مزید پڑھیے

Most Popular