
لاہور، اسلام آباد، پشاور: پنجاب،خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش ہوئی، نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، مکانات منہدم ہونے سے 14افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارش نے تباہی مچا دیں، متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں، بجلی کے تار اور کھمبے گرنے سے شہر بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔
مردان میں بھی بارش کے دوران کمرے کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے، ہری پور اور گرد و نواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، ڈیم کے سپیل ویز کھول دیے گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق لوئر دیر کے علاقے ٹکاٹک میں خستہ حال مکان کی چھت گر گئی جس سے ملبے تلے دب کر تین بچے جاں بحق ہو گئے، لکی مروت میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث دیواریں گر گئیں، ملبے تلے دبے 10 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔
آزاد کشمیر میں مٹی کے تودے گرنے سے 4 گھر منہدم ہو گئے جبکہ ایک مسجد شہید ہو گئی، پنجاب کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں گلبرگ، جیل روڈ، ٹیمپل روڈ، لکشمی چوک، گڑھی شاہو، شاد باغ، مغلپورہ، جلو اور جی او آر میں تیز بارش ہونے سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔
حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، چنیوٹ میں بادل برس پڑے، چشتیاں، سانگلہ ہل، چناب نگر میں موسلا دھار بارش سے شہری پریشان ہو گئے، چشتیاں میں تیز آندھی اور بارش سے کھمبے گر گئے، متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے، بجلی اور پانی کی فراہمی تعطل کا شکار ہو گئی۔ اٹک، بہاولنگر، پنڈی بھٹیاں میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے، ایبٹ آباد اور گردونواح میں بارش اور ژالہ باری ہوئی، شاہراہ ریشم تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔
ملک بھر میں تیس اگست تک شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا گیا، خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث فلیش فلڈ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا، چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
پشاور، نوشہرہ اور مردان کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے، عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آنے سے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 21 فٹ سے بلند ہوگئی، قصور میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی۔
قصور میں 30 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔


































