Tue Oct 20, 2026

ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

روزانہ کی خبریں

بھائیوں کے درمیان گفتگو اور ٹیبل ٹاک کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں، الفتح اتحاد کے سربراہ کا پرتشدد کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

عراق میں الفتح اتحاد کے سربراہ نے سب کو امن کی دعوت دیتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ آتشیں اسلحے کا استعمال بند کیا جائے۔ عراق میں الفتح اتحاد کے سربراہ ہادی العامری نے ایک بیان میں بغداد میں جاری تصادم اور مسلح جھڑپوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہادی العامری نے آج منگل کی علی الصبح تمام فریقین کو امن کی دعوت دیتے ہوئے آتشیں اسلحے کے استعمال کو روکنے اور سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور دونوں طرف اپنے بیٹوں سے چاہتا ہوں کہ وہ اسلحے کا استعمال ترک کر دیں، کیونکہ اسلحہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور بھائیوں کے درمیان گفتگو اور ٹیبل ٹاک کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں۔ بغداد میں تشدد روکنے کے لئے عراق کے وزیراعظم نے سیاسی شخصیات کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا عراقیوں کی جان بچانے کے لئے سب اپنی قومی ذمے داری کو ادا کریں۔ یاد رہے کہ عراق میں الصدر تحریک کے سربراہ سید مقتدیٰ الصدر پیر کی دوپہر تمام سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کا اعلان کرچکے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ان کے حامیوں نے گرین زون میں سرکاری املاک پر حملہ کیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک مقتدیٰ الصدر کے حامی گرین زون کی مختلف گلیوں اور سڑکوں پر پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے کچھ مقتدیٰ کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں اور کچھ سرکاری املاک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراقی ایلیٹ فورس کے دستے بھی "المعلق” پل پر تعینات ہیں، تاکہ وہ مقتدیٰ الصدر کے دیگر حامیوں کو گرین زون میں داخل ہونے سے روکیں، اس دوران گرین زون کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے گئے ہیں اور ایک بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز یہاں پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عراق کی الصدر تحریک نے گذشتہ ایک ماہ سے سیاسی اختلاف کی وجہ سے اپنے حامیوں کو مظاہروں کی کال دی، جس کے بعد الصدر کے حامی پارلیمنٹ پر قبضہ کرکے سیاسی عمل میں تعطل اور نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کا باعث بنے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، امید ہے کہ مقتدیٰ الصدر کی سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کے بعد اس طرح کے اجتماعات اور ہنگاموں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular