
لندن : بین الاقوامی انسانی تنظیم آکسفیم نے اہلیان غزہ کے خلاف پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے پر اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے۔آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں پانی کی کمی کو اسرائیل کا ایک منظم اور دانستہ ہتھکنڈہ قرار دیا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے ہے 1993 کے اوسلو معاہدے کے بعد سے اسرائیل پانی کی قلت کے غیرانسانی طریقےکو فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کررہاہے۔ آکسفیم کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے غزہ کے پانی اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی نے غزہ میں سنگین صورتحال پیدا کرنے اور اسے مزید خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات نے غزہ کی پوری آبادی کو زندگی بچانے والے پانی اور صفائی کی خدمات سے محروم کر دیا ہے، جس سے لوگوں کی صحت اور بقا کے لیے ناگزیر فوری اور طویل مدتی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔


































