
غزہ : حماس نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت امریکی سہارے کے بغیر ایک لمحہ ٹہر نہیں سکتی۔ حماس کے رہنما علی برکہ نے کہا کہ مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے آپریشن طوفان الاقصی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس آپریشن کے آغاز سے ہی پوری دنیا کی نظریں فلسطین اور بیت المقدس پر ہیں۔ امریکا نے شروع سے ہی صیہونی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے غزہ میں سویلین پر حملوں کو جائز قرار دیا ہے۔ آج امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی صیہونی غاصب حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے خطاب میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے آٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور ان کے گھروں کو تباہ کردیا ہے۔ اس رجیم کے یہ اقدامات جیت نہیں بلکہ کھلی شکست ہیں۔
القانوع نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے بعض علاقوں میں محدود زمینی حملہ در اصل صیہونی غاصبوں کے اپنے وسیع منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکامی کے بعد ہوا۔ قابضین ایسی کارروائی کے ذریعے اپنی شکست خوردہ پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قسام بٹالین نے دشمن کی صفوں پر اور سپلائی لائن پر شدید فضائی حملے کر کے فوجی سازوسامان اور ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ حملے مزاحمتی فورسز کے جنگی میدان کو سنبھالنے اور معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔


































