
ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای سے سیستان و بلوچستان اور جنوبی خراسان صوبوں کے ہزاروں لوگوں نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ولی امر مسلمین نے ان علاقوں کے مومن عوام اور شیعہ سنی علماء کی جانب سے ملک کی خدمات کو سراہتے ہوئے بڑی عالمی تبدیلیوں کے دوران اقوام اور مختلف ملکوں کے حکام کے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران میں بحران پیدا کرنے والے امور کو ہوا دینے کی دشمن کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد کو بگاڑنا اور قومی سلامتی کو کمزور بنانا، ان کے دو بنیادی اور اہم اہداف ہیں لیکن ہم بھی دشمن کا پوری توجہ سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اگر قوم اور حکام کی نگرانی، بیداری اور ہوشیاری قائم رہے تو دشمن کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے شام میں ناکامی اور افغانستان سے ذلت آمیز طریقے سے فرار کو امریکا کی طاقت کے زوال کے دو واضح نمونے بتایا اور کہا کہ دیگر سامراجی ممالک بھی اسی زوال کا شکار ہوچکے ہیں چنانچہ ان دنوں افریقا کے مختلف ممالک میں اس براعظم پر ماضی میں سامراجی قبضہ کرنے والے فرانس کے خلاف تحریکیں چل رہی ہیں اور عوام ان تحریکوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ دشمن کمزور ہو رہا ہے تو اس کا مطلب مکر و فریب، سازش رچنے اور چوٹ پہنچانے میں اس کی ناتوانی نہیں ہے اس لئے ہمیں یعنی عوام اور حکام کو پوری طرح سے بیدار اور چوکنا رہنا چاہیئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکا کی سازشیں صرف ایران تک محدود نہیں ہیں، آج وہ خطے میں عراق، شام، لبنان، یمن، افغانستان، یہاں تک کہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے خلاف بھی سازشیں کر رہا ہے جو اس کے پرانے اور روایتی دوست ہیں۔ انہوں نے امریکا کی سازش پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جو اطلاعات ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت نے بحران پیدا کرنے والے گروہ کے نام سے ایک ٹیم تیار کی ہے جس کا کام ایران سمیت دیگر ممالک میں بحران کا سبب بننے والے ایشوز تلاش کرنا اور انھیں ہوا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں قومی و مسلکی اختلافات اور خواتین کا مسئلہ ایسے امور ہیں جن سے ایران میں بحران پیدا کیا جا سکتا ہے اور وہ انھیں ہوا دے کر ہمارے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران میں شام اور یمن جیسی صورتحال پیدا کرنے پر مبنی بعض امریکیوں کے واشگاف بیانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر وہ ایسا نہیں کر پائيں گے بشرطیکہ ہم چوکنا اور بیدار رہیں، غلط راستے پر نہ چلیں، حق اور باطل کے فرق کو اچھی طرح سمجھیں، دشمن کے طریقوں کو پہچانیں، اپنی کسی بھی بات، قدم اور اقدام سے دشمن کی مدد نہ کریں اور خواب غفلت کا شکار نہ ہوں کیونکہ نیند کی حالت میں ایک بچہ بھی آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مسلح اور حملے کے لیے تیار دشمن کی تو بات ہی الگ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ بحمد اللہ ہماری قوم بیدار ہے اور میں قوم کی اس بیداری کی جانب سے بہت پرامید ہوں اور یہ صرف نعرہ اور رجزخوانی نہیں بلکہ پچھلے چالیس پینتالیس برس کے تجربات اور مشاہدات کا نتیجہ اور جوانوں کی توانائی، محبت، وفاداری، اخلاص اور اس سال کے اربعین سمیت عوام کی زبردست موجودگی جیسی نمایاں اور امید آفریں علامتوں کے سبب ہے۔


































