
تل ابیب: صیہونی حکومت کو ایران کیخلاف جنگ یومیہ بیس کروڑ ڈالر کی پڑنے لگی جبکہ معاشی نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق اسرائیل کے سب سے زیادہ اخراجات کا بوجھ ایرانی میزائلوں کو روکنے پر آرہا ہے۔
دپورٹ کے مطابق سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے اخراجات تو صرف ۔ ڈیوڈز سلنگ اور ایرو تھری جیسے سسٹمز پر آرہے ہیں۔ جبکہ جارحانہ آپریشن بھی بہت مہنگا پڑ رہاہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہزار میل دور ایف تھرٹی فائیو جنگی طیارے بھیجنے پر دس ہزار گھنٹہ اخراجات ہوتے ہیں جبکہ بموں کی لاگت اس کےعلاوہ ہے۔
ہارون انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک پالیسی کا اندازہ ہے کہ ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ میں اسرائیل کو 12 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
ماہر اقتصادیات زیوی ایکسٹائن نے کہا ہےکہ یہ جنگ حزب اللہ اور غزہ سے کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اقتصادی دباؤ کی وجہ سے ایک مختصر جنگ کا مطالبہ سر اٹھا رہاہے۔


































