Wed Oct 14, 2026

حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار

روزانہ کی خبریں

امریکا نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنا لی

بیروت: جنوبی لبنان میں جنگ بندی کو آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب امریکہ نے حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے، جس میں واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ کوششوں سے عسکری دباؤ کے ذریعے حزب اللہ کی دفاعی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسرائیلی زمینی افواج جنوبی لبنان کے پانچ اسٹریٹجک علاقوں میں اب بھی تعینات ہیں اور لبنانی سرزمین کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا گیا۔ اس دوران اسرائیل حزب اللہ کے ٹھکانوں اور عسکری ساز و سامان کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے تاکہ مزاحمتی قوت کی بحالی اور دوبارہ طاقت حاصل کرنے کے عمل کو روکا جاسکے۔
اطلاعات کے مطابق، لبنانی فوج کے سربراہ جوزف عون نے امریکی عہدیدار ٹام باراک کو پیغام دیا ہے کہ موجودہ حالات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا کوئی آسان آپشن نہیں۔ یہ معاملہ صرف اسرائیل کی جانب سے اپنے وعدے پورے کرنے کے بعد ہی تدریجا ممکن ہوسکتا ہے۔
ادھر جنوبی شام میں اسرائیل نواز گروہوں کی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ، جولانی کے حمایت یافتہ گروپوں کی نقل و حرکت اور ساحلی علاقوں میں دروزی و علوی برادری کے خلاف ممکنہ کارروائیاں، حزب اللہ کے لیے ایک واضح اشارہ ہیں کہ اگر اس نے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ تسلیم کیا تو اس کا نتیجہ ایک نئی جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس بار محاذ شام کی طرف سے کھولا جاسکتا ہے۔ ان بدلتے حالات میں صیہونی حکام نے ایک بار پھر کھلے عام دھمکی دی ہے کہ اگر حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہ کیا گیا تو اسرائیل ایک نئی اور وسیع تر جنگی مہم کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ نئی حکمت عملی نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
امریکہ کے شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس کا مقصد بظاہر مزاحمت کو دھوکے میں رکھ کر اسرائیل کے مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ باراک حزب اللہ سے براہ راست رابطے کی کوشش میں بھی ناکام رہے ہیں۔ لبنانی حکومت نے واضح انداز میں امریکی فریق کو یہ پیغام دیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہ صرف ملک میں تنازعے کو ہوا دے سکتی ہے بلکہ لبنان کو دوبارہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular