
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے لبنان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکی سفارتخانہ کو ٹہرایا ہے، استقامتی محاذ کے کمانڈر شہید عباس الیتامی کے یوم شہادت پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ لبنان کا موجودہ بحران مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ کی علامت ہے ، جس کی قیادت بیروت میں امریکی سفارت خانہ اور اس کے سفیر کر رہے ہیں، 2005 کے بعد امریکا کے جو بھی سفیر بیروت آئے وہ ان لوگوں کے سچے رہنما ہیں جو مزاحمت کے خلاف جنگ میں مصروف تھے، وکی لیکس اور دوسرے ذرائع سے سامنے آنے والی رپورٹس اس کی تصدیق کرتی ہیں، امریکا اور سعودی عرب کے سفارت خانوں نے گزشتہ برسوں کے دوران لبنان کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی بھر پور کوشش کی لیکن انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اُنہوں نے کہا کہ ہماری طاقت کا راز یہ ہے کہ ہم کبھی سیاسی خواہشات کے خواہاں نہیں رہے، ہم امریکی بالادستی کے دشمن ہیں، ہم صیہونی حکومت اور صیہونی منصوبے کے دشمن ہیں اور ہمیں امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی پر فخر ہے، انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپی ممالک نے استقامتی محاذ کو شکست دینے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے لیکن اس کے باوجود انھیں شکست ہوئی اور انہوں نے شام کے خلاف عالمی جنگ شروع کی اور لبنان میں دہشت گردوں کو بھیجا لیکن پھر بھی وہ اپنے عزائم میں ناکام رہے، سید حسن نصر اللہ نے افغانستان میں امریکہ کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور شام سے بھی امریکی فوجیوں کو نکلنا پڑے گا اورعراقیوں کو امریکی فوجی مشاورین کے بارے میں افغانستان کے تجربے کو سامنے رکھنا چاہیے۔


































