
نیویارک : اقوام متحدہ کے زیراہتمام جنیوا میں افغانستان کے لیے امدادی کانفرنس کا انعقاد آج ہو رہا ہے تاکہ بحران سے دوچار ملک کے لیے 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم اکٹھی کی جا سکے، طالبان کے گذشتہ ماہ کابل پر قبضے سے قبل بھی افغانستان کی آدھی آبادی (ایک کروڑ 80 لاکھ افراد) کا انحصار امداد پر ہی تھا،اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور امدادی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد خشک سالی اور نقد رقم اور خوراک کی کمی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم مالی طور پر جدوجہد کر رہی ہے، اس وقت اقوام متحدہ اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل بھی نہیں ہے، آج شروع ہونے والی جنیوا کانفرنس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار شرکت کریں گے جن میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے سربراہ پیٹر موریر کے علاوہ درجنوں حکومتی نمائندے بھی شرکت کریں گے، جب میں جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس بھی شامل ہیں، 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا تقریباً ایک تہائی حصہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے استعمال کیا جائے گا جس کے مطابق اگست اور ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 16 سو افغانوں میں سے 93 فیصد مناسب خوراک استعمال نہیں کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس ادائیگی کے لیے نقد رقم نہیں تھی۔


































