
کابل : افغانستان کی وحدت اسلامی پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے کہا ہے کہ طالبان کی فوج ،ضلع بلخاب میں عام شہریوں کا قتل عام کررہی ہے بلخاب کے باشندے انصاف چاہتے ہیں اور اس بنا پر طالبان انہیں زمین اور آسمان سے امریکا کے دیئے ہوئے اسلحے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ طالبان نے گذشتہ چار دنوں میں تقریبا آٹھ ہزار فوجیوں کی مدد سے ضلع بلخاب کے صدر مقام اور آٹھ دیہات پر قبضہ کر کے بڑی تعداد میں نہتے عوام کا قتل عام کیا۔ادھر شیعہ علماء کونسل نے طالبان اور ضلع بلخاب میں طالبان کے منحرف کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے حامیوں کے درمیان جنگ بڑھنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں عام شہریوں پر تشدد نہیں ہونا چاہئے۔طالبان کے تسلط کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بدنظمی، بدامنی اور جنگ ختم ہو جائے گی لیکن علاقے میں جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے ہیں۔کونسل نے بلخاب میں دونوں متحارب فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد سے جلد مسلح کارروائیاں ختم کرکے اپنے اختلافات کو گفتگو کے ذریعے حل کریں۔دریں اثنا افغان وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ طالبان فوجیوں نے صوبۂ سرپل کے ضلع بلخاب میں اپنے ایک منحرف کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے حامیوں کے خلاف حملے شروع کر دیئے ہیں، جسے مخالفین کی صفائی کے لئے مشترکہ کارروائی کا نام دیا گیا ہے۔


































