
کابل : طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی پھر مخالفت کردی۔ طالبان حکومت کے وزیر تعلیم نور اللہ امین نے کہا ہے کہ لوگ نہیں چاہتے کہ موجودہ حالات میں ان کی بچیاں اسکول جائیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ خاندانوں کی ترجیحات اور ثقافت کی وجہ سے اسکول لڑکیوں کے لیے بند ہیں۔ وزیر تعلیم کے ریمارکس کو افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند لوگ پورے افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ یہ افغان کلچر نہیں بلکہ طالبان کا نظریہ ہے جو افغانوں پر مسلط ہے۔


































