Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کر دی

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اس سلسلے میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے اقدامات کو برقرار رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، بھارت سے الحاق کے بعد کشمیر کی داخلی خود مختاری کا عنصر برقرار نہیں رہا اور دفعہ 370 ایک عارضی شق تھی۔ عدالت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات 30 ستمبر 2024ء تک کرانے کا حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بھارتی صدر کے پاس اختیارات ہیں، دفعہ370 جموں و کشمیر کے انضمام کو منجمد نہیں کرتا، جموں و کشمیر اسمبلی کی تشکیل کا مقصد مستقل باڈی بنانا نہیں تھا۔ درخواست گزاروں نے بھارتی سپریم کورٹ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور دفعہ 370 بحال کرنے کی استدعا کی تھی۔
بھارتی سپریم کورٹ نے 20 سے زیادہ درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواستوں میں جموں و کشمیر کو جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ 5 ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ میں دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف درخواستوں پر 16دن تک سماعت ہوئی تھی۔ بھارت کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی تھی۔ فیصلہ سنانے کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں پابندیاں مزید سخت کی گئی ہیں جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular