
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ حسن رضا ہمدانی، غلام حیدر سلمانی، سید اسد عباس نقوی، علامہ امتیاز کاظمی، علامہ سید جواد الموسوی، مولانا محمد یوسف صابری سمیت دیگر رہنماؤں نے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاراچنار بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہے، کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت ضلع کرم کے مظلوم عوام کا قتل کیا جا رہا ہے، اور بدقسمتی سے اس کے مجرم خیبر پختونخوا حکومت، وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شرپسند اور بدامنی کے ذمہ دار عناصر نے پاراچنار کے دو مزدوروں کو قتل کر دیا، ان کے قتل کرنے، ان کے گلے کاٹنے اور پھر ان کے لاشوں سے كهلواڑ کرنے کی ویڈیو جاری کی گئی، جس میں قاتلوں کے چہرے صاف نظر آ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ خیبر پختونخوا حکومت نے کوئی ایکشن لیا، اور نہ ہی ریاستی اداروں نے انھیں گرفتار کیا۔ وارثان شہداء پارا چنار میں شہداء کے لاشوں کے ہمراء دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر قائد وحدت چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پہلے مرحلے پر پورے ملک میں تمام ڈویژنل ہیڈ کواٹرز پر دھرنوں کا اعلان کیا ہے، اس وقت اسلام آباد ،کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ ،اسکردو، گلگت ،ڈی جی خان، جهنگ میں دھرنوں کا آغاز ہو چکا ہے، ملتان کا دھرنا اسی سلسله کا حصہ ہے۔
علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کی پارا چنار میں قتل عام پر بے حسی کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاراچنار کرم کے راستے 78 دنوں سے بند ہیں، سات لاکھ افراد محصور ہو چکے ہیں، نہ ان کے پاس غذائی اجناس ہیں نہ بیماروں کیلئے ادویات ہیں، نہ زخمیوں کیلئے ادویات ہیں، اور تمام ہسپتال بند ہیں، پورے پاراچنار میں پیناڈول جیسی گولی بھی دستیاب نہیں، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کا مشیر اطلاعات بیریسٹر سیف میڈیا پر بیٹھ کر غلط بیانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار کے مظلوم عوام کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا ہے، ہم اس کے اس رویہ کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر مشروط طور پر پاراچنار کے راستے کھولے جائیں اور ذمہ دار افراد کیخلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاراچنار کا دھرنا ختم نہیں ہوتا ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔


































