
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے سینیٹ میں پاراچنار کے مسئلے پر خطاب نے ایوان بالا کو ہلا کر رکھ دیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ میں نے صوبائی حکومت کو مسلسل توجہ دلائی کہ حالات درست کریں۔ جنگ ہو سکتی ہے لیکن نہیں سنا گیا۔ ہم نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ڈی سی کو تبدیل کرنے کا کہا لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم بالخصوص پاراچنار کا علاقہ دو ماہ سے محاصرے میں ہے اور ایک نالائق صوبائی ترجمان مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہے، نہ حکومت نام کی چیز ہے نا سیکورٹی ادارے نام کی ، کرم کے معاملے میں سب ہمارے مجرم ہیں، دونوں اطراف کے لوگ امن چاہتے ہیں لیکن کچھ طاقتیں انہیں لڑا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ تڑی مینگل میں اساتذہ کو انتہائی بیدردی سے قتل کیا گیا لیکن ہم نے اس پر جنگ نہیں ہونے دی۔ آپ سے ایک سڑک اور چھوٹا سے علاقہ کنٹرول نہیں ہوتا۔
علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ صوبائی حکومت۔ وفاقی حکومت اور سیکورٹی ادارے سب ہمارے مجرم ہیں۔ لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اسلحہ ہمارے حوالے کردیں تو راستے کھول دیں گے۔ سینٹ کی کمیٹی بنائی جائے اور اسے کرم بھیجا جائے وزیرداخلہ کو ایوان میں بلا کر پوچھا جائے کہ غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے۔ فوری طور پر راستے کھولے جائیں۔


































