Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

افغانستان کا مسئلہ سب کو ملکر حل کرنا ہوگا، اسے تنہا چھوڑا تو مختلف بحران جنم لیں گے، عمران خان

دوشنبے: وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی، پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او اجلاس میں شرکت باعث فخر ہے ، کورونا سے پوری دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئیں اور خطے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کورونا کے اثرات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ تجارت،سرمایہ کاری اور روابط کیلئے یہ اہم فورم ہے، کورونا کی صورتحال میں دنیا کاہیلتھ سیکٹر مقابلہ نہیں کرسکتا، اس صورتحال میں ہم نےصحت کیساتھ معاشی صورتحال پر بھی نظررکھی، پاکستان دنیا کیساتھ ملکر کورونا وبا کے خاتمےکیلئے کردارادا کرتا رہے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دوسرا بڑا چیلنج ہے جو دنیا کو لاحق ہے ، ہم نے مسائل کے حل کیلئے ملکر کام کرنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ہم نے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا۔ دہشتگردی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دنیا میں دہشتگردی کومذہب سے جوڑاجاتاہے، 9الیون کی سالگرہ پردنیا کو عالمی سطح پر دہشتگردی کا سامناہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں معاشی نقصان کیساتھ ہمارے 10لاکھ لوگ متاثرہوئے۔
افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پوری دنیا کی توجہ کامرکز ہے ، افغانستان کا مسئلہ ہم سب کو ملکر حل کرنا ہوگا، یادرکھیں کہ پچھلی افغان حکومت 75 فیصد غیرملکی امداد پر چل رہی تھی، طالبان نے افغانستان کا خونریزی کے بغیر کنٹرول حاصل کیا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آج افغان عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے، یہ دنیا کا افغانستان کیساتھ کھڑے ہونے کاوقت ہے، افغانستان میں انسانی بنیادوں پر کام ہوناچاہیے۔ انھوں نے کہا افغانستان میں ایساسیاسی ڈھانچہ ہوناچاہیےجس میں تمام گروپوں کی نمائندگی ہو، طالبان کو سیاسی استحکام کیساتھ ،افغان عوام کابھروسہ جیتنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان ایساملک ہے جس میں کوئی باہر سے حکمرانی نہیں کرسکتا، افغانستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا، پاکستان خطے میں امن کا کردار ادا کرنیوالا اہم ملک ہے ، ہم نے افغانستان سے متعلق ہمیشہ یکساں مؤقف رکھا۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آچکی ہے ، افغانستان کو تنہا چھوڑا تومختلف بحران جنم لیں گے ، پاکستان افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتاہے اور سمجھتاہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں۔

مزید پڑھیے

Most Popular