
انقرہ : ترکیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں کرد گروہوں کے استعمال کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ترکیہ نے کرد قیادت پر واضح کیا کہ جنگ کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے کرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اسرائیل نے ایران۔عراق سرحدی علاقوں میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا تاکہ ان گروہوں کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے جبکہ سینکڑوں افراد عراق سے ایران کی جانب روانہ بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ترکیہ نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے عراق کی کرد علاقائی حکومت کے اعلیٰ حکام سے رابطے کیے اور بارزانی اور طالبانی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ انقرہ نے واضح کیا کہ اگر کرد گروہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوئے تو انہیں کسی قسم کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ اس سخت مؤقف کے بعد متعدد گروہوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب ترکیہ نے پی کے کے کو بھی بالواسطہ وارننگ دی کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ شامل ہوئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔


































