
تحریر: حسن عقیقی سلماسی
جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ہی لبنانی وزارت خارجہ نے لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ صیہونی فوج کے شدید تشدد کے باوجود لبنانی عوام جنوبی لبنان میں داخل ہوئے، جس کے نتیجے میں صیہونیوں کو ایک اور شکست ہوئی۔ لبنان کی حزب اللہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کی ایک اہم شق جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کا انخلاء تھا۔ 60 دن کی مدت ختم ہونے کے باوجود صیہونیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے انخلاء پر آمادہ نہیں ہیں۔ گذشتہ روز جنوبی لبنان سے صیہونی حکومت کے انخلاء کے لیے دی گئی 60 دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد سیکڑوں لبنانی شہری اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے اپنے دیہاتوں اور رہائش گاہوں کے داخلی راستوں پر جمع ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی وارننگ کے باوجود لبنانی شہری قابضین کے خوف کے بغیر اپنے گھروں کی طرف بڑھے، تاہم اسرائیلی فوج نے شہریوں پر فائرنگ کر دی، جس سے درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔
لبنان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اپنے گھروں کو لوٹنے والے لبنانی شہریوں کے خلاف صہیونی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور لبنانی سرزمین کے تمام حصوں سے فوری انخلا کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ساٹھ دنوں کے دوران غاصب اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں اور حالیہ اسرائیلی جرائم عہد شکنی اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی، جنگی جرائم کا واضح مصداق ہيں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور فرانس اس جنگ بندی سمجھوتے کے نگراں اور ضامن ہونے کے ناطے ان جرائم کے ذمہ دار ہيں۔
لبنان کی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کو صیہونی فوجیوں کے حملوں میں چوبیس لبنانی شہید اور ایک سو چونتیس زخمی ہوئے ہيں۔ صیہونی حکومت جنوبی لبنان سے انخلاء نہ کرنے کے لیے کئی بہانے اور جواز پیش کر رہی ہے۔ پہلا عذر یہ ہے کہ لبنانی فوج ابھی تک جنوبی لبنان میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ حزب اللہ کی فوجیں ہیں، جن کو جنوبی لبنان میں بالادستی حاصل ہے۔ ایک اور عذر یہ ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلاء سے مقبوضہ علاقوں کے شمالی علاقوں میں صہیونی شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، کیونکہ حزب اللہ کی افواج اب بھی جنوبی لبنان میں تعینات ہیں۔
ادھر صیہونی حکومت جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی مقبولیت سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ جنوبی لبنان میں واپسی کے بعد بے گھر افراد نے سید حسن نصراللہ کی یاد اور نام کی تعظیم کرتے ہوئے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور یہ سارا معاملہ صیہونیوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔ شمالی فلسطین میں اسرائیلی نیوز چینل 24 نے اس معاملے پر رپورٹ کیا ہے کہ لبنان سے جاری ہونے والی تصاویر نے شمالی فلسطین میں صیہونی آباد کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اس طرح کی واپسی ان کی سکیورٹی کی صلاحیتوں اور فوج کو چیلنج کرے گی۔ اس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو جائیگا۔ اس صہیونی میڈیا کے رپورٹر نے نوٹ نے لکھا ہے کہ لبنانیوں نے سید حسن نصراللہ کی شان میں نعرے لگاتے ہوئے، لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی فوج کے دفاعی مورچوں اور چوکیوں کو عبور کرنے کی کوشش کی، تاکہ وہاں موجود صیہونی افواج کو چیلنج کرسکیں۔
آخری بات یہ ہے کہ جنوبی لبنان سے انخلاء میں تاخیر پر صیہونی حکومت کے اصرار کو صیہونی میڈیا اور فوج کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ Haaretz اخبار کے عسکری تجزیہ کار، Amos Harel نے کہا کہ ریزرو فورسز نے لبنانی سرزمین میں بلا جواز قیام پر کڑی تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی لبنان میں غاصب صیہونی حکومت کی تمام تر جارحتیوں اور دھمکیوں کے باوجود وہاں مکینوں کی اپنے گھروں کی جانب شجاعانہ واپسی کی خبر عام ہونے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
صیہونی ٹینکوں اور فوجیوں کے مقابلے میں لبنانی باشندوں بالخصوص ایک خاتون کی عدیم المثال شجاعت و بہادری کی ویڈیو عام ہونے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی کے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ ڈالی گئی، جس میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا ایک جملہ تحریر کیا گیا ہے۔ "آج تمام سیاسی اور مادی اندازے جنوبی لبنان کے مومن اور مخلص عوام کے سامنے مغلوب ہوگئے کہ جنہوں نے صیہونی فوج کو ہیچ سمجھتے ہوئے اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کیا اور جذبہ ایثار سے لبریز ہو کر میدان میں پہنچ گئے۔


































