
لندن : طبی جریدے لانسیٹ نے دعوی کیا ہے کہ غزہ جنگ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ چھیاسی ہزارسے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایسی جنگوں میں اموات کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جو سب کے سامنے گولہ بارود کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ اور انہیں گنتی میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ جبکہ بہت سے ہلاکتیں براہ راست نہیں ہوتی ہیں۔ اسی لئے گنتی میں شامل نہیں ہوتی ہیں لیکن ان کی وجہ بھی جنگ ہی ہوتی ہے۔ لانسیٹ نے سائنٹفک جائزے کی بنیاد پر بتایا کہ جنگ میں صحت کی سہولیات کی تباہی۔ خوراک کی عدم دستیابی اور دیگر کئی اسباب سے ہونیوالی اموات بھی دراصل جنگ کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ جس کا اندازہ ہے کہ یہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ لانسیٹ کا کہنا ہے ایسی جنگوں میں مجموعی اموات براہ راست اموات سے تین سے پندرہ گنا تک ہوتی ہیں۔ اس لیے فلسطینیوں کی اموات ایک لاکھ چھیاسی ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔


































